چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے لبنان کے سفیر عبد العزیز عیسی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے لبنان کے سفیر عبد العزیز عیسی سے ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 29 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی بدھ کے روز لبنان کے سفیر عبد العزیز عیسی سے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں اطراف سے اسلام آباد اور بیروت کے درمیان شہری سطح پر تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک لبنان کو انتہائی قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور بیروت کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں۔لبنان کے سفیر عبد العزیز عیسی نے سی ڈی اے کی طرف سے اسلام آباد کی خوبصورتی اور ترقی کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد غیر معمولی طور پر سرسبز و شاداب اور قدرتی طور پر ایک خوبصورت شہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی خوبصورتی، ہریالی اور صفائی ستھرائی غیر متوقع طور پر حیران کن ہے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ اسلام آباد کو مزید خوبصورت اور سرسبز و شاداب شہر بنانے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارگلہ کی پہاڑیاں اسلام آباد کے قدرتی حسن کو مزید دوبالا کرتی ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ دارالخلافہ اسلام آباد 1960 میں ماسٹر پلان کے تحت قائم جدید گرِڈ لاک سٹی ہے۔
ملاقات میں لبنان کے سفارتخانے کو ڈپلومیٹک انکلیو منتقل کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا تمام سفارتی مشنز کو ڈپلومیٹک انکلیو میں منتقل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے ڈپلومیٹک انکلیو کی بیوٹفکیشن و اپگریڈیشن سے آگاہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ڈپلومیٹک انکلیو کی بیوٹفکیشن کے ساتھ ساتھ تفریحی و کھیلوں کی سہولیات میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مزید شعبوں میں تعاون اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعاد ہ بھی کیاگیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالم دین کی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کرنے والے افغان خارجی دہشت گرد کا اعترافی بیان سامنے آگیا عالم دین کی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کرنے والے افغان خارجی دہشت گرد کا اعترافی بیان سامنے آگیا عمران خان سے اجازت ملنے کے بعد سہیل آفریدی آج خیبرپختونخوا کابینہ بنائیں گے متنازعہ ٹوئٹ کیس؛ ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو گرفتار کرلیا گیا پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم فائٹر ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ کایوم جمہوریہ، صدرمملکت اور وزیراعظم کی ترک حکومت اور عوام کو مبارکباد ڈکی بھائی کی اہلیہ سے رشوت لینے والے این سی سی آئی اے افسران کےجسمانی ریمانڈ کا تحریری فیصلہ جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا لبنان کے سفیر عبد العزیز عیسی
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔