لال قلعے کا قبضہ دلوایا جائے، مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ عدالت پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر پڑپوتے کی بیوہ سلطانہ بیگم نے بھارتی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی کے لال قلعے کا قبضہ انہیں دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں بھارت: مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کا مقبرہ گرانے کے مطالبے پر ہنگامہ آرائی، ناگ پور میں کرفیو نافذ
عدالت نے سلطانہ بیگم کی درخواست پر مؤقف اختیار کیاکہ اگر ہم آپ کو لال قلعے کا قبضہ دے دیتے ہیں تو پھر آپ کی جانب سے آگرہ اور فتح پور سیکری کے قلعے بھی مانگے جائیں گے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنا نے سلطانہ بیگم کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاکہ لال قلعے کا قبضہ نہیں دیا جا سکتا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سلطانہ بیگم اس سے قبل دہلی ہائیکورٹ سے بھی رجوع کرچکی ہیں، اور ہائیکورٹ نے دو بار ان کی درخواست مسترد کی۔۔
ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اب 150 برس گزر چکے ہیں، اس لیے یہ درخواست قابل سماعت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں اورنگزیب کا مقبرہ مسمار کرنے کا فیصلہ، مہاراشٹر میں مذہبی منافرت کی آگ بھڑک اٹھی
واضح رہے کہ لال قلعہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں واقعہ ہے، جس کی ایک تاریخی حیثیت ہے، یہ مغلیہ حکمرانوں کی رہائشگاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی سپریم کورٹ بہادر شاہ ظفر پڑپوتے کی بیوہ درخواست مسترد دہلی ہائیکورٹ قبضہ لال قلعہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی سپریم کورٹ بہادر شاہ ظفر درخواست مسترد دہلی ہائیکورٹ لال قلعہ وی نیوز لال قلعے کا قبضہ سلطانہ بیگم
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔