پاکستان کو دھمکیاں دینے والا بھارت ایک اور مصیبت میں پھنس گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک)بھارت میں کسان احتجاج کی نئی لہر شروع ہوگئی ہے ۔ راکیش ٹکیت کی قیادت میں کسان تحریک کے نئے جوش نے ملک گیر اثرات نمایاں کرنا شروع کر دئیے۔
بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق ماضی میں مودی سرکار کی جڑوں کو ہلا دینے والی کسان تحریک ایک بار پھر پوری طاقت سے ابھر آئی ہے ۔کسانوں کا کہنا ہے کہ ہمارا پیغام واضح ہے، زمین، روزگار اور عزت کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ احتجاجی مارچ نے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے جبکہ انتظامیہ سخت پریشان ہے۔بھارتیہ کسان یونین کے پرچم تلے ہزاروں کسانوں نے دہلی کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے، دہلی کی طرف مارچ کرنے والے کسان حکومت کی پالیسیوں کے خلاف متحد ہیں۔کسانوں کی واپسی نے اقتدار کے ایوانوں کو پھر ہلا کر رکھ دیا، احتجاج کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے جس کے باعث حکومت پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بیٹا امتحان میں فیل، والدین کا جشن، کیک بھی کاٹا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔