UrduPoint:
2026-07-24@06:52:30 GMT

بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی ’خلاف ورزی شروع‘

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی ’خلاف ورزی شروع‘

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 مئی 2025ء) کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کی آبی ذخائر کی گنجائش بڑھانے کا کام دراصل بھارت کی جانب سے 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی کی پہلی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں حریف ممالک کے مابین تین جنگوں اور کئی دیگر تنازعات کے باوجود دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق اس معاہدے کی خلاف ورزی اب تک نہیں کی گئی تھی۔

تاہم گزشتہ ماہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے ایک حملے کے بعد نئی دہلی حکومت نے یہ معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستانی زرعی زمین کے 80 فیصد حصے کو پانی کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔

بائیس اپریل کو پہلگاممیں ہوئے حملے میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

بھارت نے اس حملے میں مبینہ طور پر ملوث تین حملہ آوروں میں سے دو کی شناخت پاکستانی شہریوں کے طور پر کی تھی۔

اسلام آباد نے اس حملے میں کسی بھی کردار کی تردید کرتے ہوئے معاہدے کی معطلی پر بین الاقوامی قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ''پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔‘‘

بھارت کیا کر رہا ہے؟

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارت کی سب سے بڑی سرکاری پن بجلی کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ اور جموں و کشمیر کی وفاقی حکومت نے جمعرات کے روز ''ریزروائر فلشنگ‘‘ کا عمل شروع کر دیا، جس کا مقصد پانی کے ذخائر میں جمع مٹی اور تلچھٹ کو نکالنا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اس طرح وہاں پانی جمع کرنے کی صلاحیت زیادہ ہو جائے گی۔

یہ کام فوری طور پر پاکستان کی پانی کی فراہمی کے لیے خطرہ نہیں بنے گا لیکن اگر دوسرے منصوبوں میں بھی ایسا ہی کیا گیا تو مستقبل میں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے میں اس نوعیت کے آدھے درجن سے زائد منصوبے موجود ہیں۔

پاکستان اپنی زرعی اور پن بجلی ضروریات کے لیے بھارت سے آنے والے دریاؤں پر انحصار کرتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے سلال اور بگلیہار پن بجلی منصوبوں میں اس کام کے بارے میں پاکستان کو مطلع نہیں کیا، حالانکہ 1987ء اور ستمبر 2008 ء میں ان مںصوبوں کے شروع ہونے کے بعد سے ایسا نہیں کیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق ذرائع نے یہ معلومات شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہیں کیونکہ وہ میڈیا سے بات چیت کے مجاز نہیں ہیں۔

روئٹرز نے این ایچ پی سی اور متعلقہ بھارتی حکام کو ان معلومات کی تصدیق کے لیے ای میل کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ کیا مقصد بجلی کی پیداوار بڑھانا ہے؟

ایک ذریعے نے روئٹرزکو بتایا، ''یہ پہلا موقع ہے کہ ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا ہے، جس سے بجلی کی پیدوار زیادہ مؤثر ہو سکے گی اور ٹربائنز کو نقصان سے بچایا جا سکے گا۔

‘‘

ہائیڈرو پاور منصوبوں کی ریزروائر فلشنگ کے لیے پانی کے ذخیرے کو تقریباً خالی کرنا پڑتا ہے تاکہ ڈٰیموں کی تہہ میں جمع ہو جانے والی کنکریوں، گارے اور تلچھٹ کو نکالا جا سکے۔ یہ عناصر بجلی کی پیدوار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔

مثال کے طور پر دو ذرائع کے مطابق، سلال منصوبے کی 690 میگاواٹ صلاحیت کی بجلی کی پیداوار بہت کم ہو چکی تھی کیونکہ پاکستان نے فلشنگ کی اجازت نہیں دی تھی جبکہ 900 میگاواٹ پیدا کرنے والا بگلیہار پراجیکٹ بھی اسی وجہ سے متاثر ہو رہا تھا۔

ایک ذریعے نے بتایا: ''فلشنگ عام طور پر نہیں کی جاتی کیونکہ اس میں پانی کا بڑا ضیاع ہوتا ہے۔ اگر اس سے کسی زیریں علاقے میں سیلاب آ سکتا ہو تو اس سے متاثر ہو سکنے والے ملک کو مطلع کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘‘

ماضی میں سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت دریاؤں پر ہائیڈروولوجیکل ڈیٹا اور سیلاب کی وارننگ پاکستان کو فراہم کرتا رہا ہے۔

تاہم نئی کشیدگی کے بعد بھارتی وزیر آبی وسائل یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ''دریائے سندھ کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا۔‘‘

حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت فی الفور پانی کے بہاؤ کو نہیں روک سکتا کیونکہ معاہدے کے تحت اسے صرف پن بجلی منصوبے بنانے کی اجازت ہے، بڑے ذخیرے والے ڈیم بنانے کی نہیں۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارت کی کے مطابق پن بجلی بجلی کی نہیں کی کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا