Juraat:
2026-06-03@03:00:15 GMT

سکھوں کا پاکستان کی حمایت کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

سکھوں کا پاکستان کی حمایت کا اعلان

ریاض احمدچودھری

رہنما تحریکِ خالصتان گرپتونت سنگھ پنوں نے پہلگام فالز فلیگ کے بعد پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دو کروڑ سکھ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔بھارت کے اقلیتوں بالخصوص سکھوں پر مظالم سب پر عیاں ہیں،بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف سکھ رہنما بھی بول پڑے۔بقول پنوں کہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ اینٹ کی طرح کھڑے ہیں”یہ 1965 ہے نہ 1971 یہ 2025 ہے، ہم انڈین آرمی کو پنجاب سے گزر کر پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کا نام ہی پاک ہے۔بھارت کی اتنی ہمت نہیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے ، ہماری روایت ہے کہ نہ ہم نے کبھی پہلے حملہ کیا ہے نہ پہلے حملہ کریں گے،جس نے بھی حملہ کیا پھر وہ بچا نہیں پھر چاہے اندرا گاندھی ہو نریندر مودی ہو یا امیت شاہ۔ ہم مودی ، اجیت ڈول، امیت شاہ اور جے شنکر کو عالمی قوانین کے تحت کٹہرے میں کھڑا کریں گے، پہلگام میں جو ہوا انہوں نے اپنے ہی ہندوں کو خود مار دیا ، اس حملے کا مقصد راج نیتی اور ووٹ کا حصول ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بھارتی فوج میں سکھوں کے ساتھ ناروا سلوک معمول بن چکا ہے ، سکھ فوجیوں پر اس حد تک ذہنی تشدد کیا جاتا ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اکثر اہل سکھوں کو ترقی سے محروم کرنے کے علاوہ انہیں توہین اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، فوج میں بھرتی کیے گئے سکھ جوانوں کی بھی کوئی عزت نہیں ہے سرِ عام سکھوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں، رپورٹ کے مطابق ہندو افسر اپنے جونیئر کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرے تو اس کا نام اور پہچان چھپا لی جاتی ہے اور جرم پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد بھارت کے اندر سے مسلسل آوازیں آنے لگی ہیں کیونکہ بھارت ابھی تک پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ بھارت کے سابق رکن پارلیمنٹ سمرنجیت سنگھ مان نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس پہلگام حملے پر پاکستان کے خلاف الزامات ثابت کرنے کیلئے کوئی شواہد موجود نہیں، بھارتی سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیاں کس طرح حملے کا پتہ لگانے میں ناکام رہیں؟ بھارت اتنا معصوم نہیں ہے، اس نے بھی کینیڈا میں3 سکھوں کو قتل کروایا ہے۔ امریکہ میں گرپتونت سنگھ پنوں کو مارنے کی کوشش کی گئی۔ بارڈر بند کرنے سے بھارتی پنجاب کی زراعت و معیشت متاثر ہو گی۔ بھارتی صدر کو چاہئے کہ حکومت کو برطرف کر کے، نئے انتخابات اور پہلگام حملے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیں۔
عسکری امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت سے اٹھنے والی آوازیں مودی کے جھوٹے الزامات کی واضح دلیل ہیں۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ہندوستان کی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی کے بعد تحریکِ خالصتان کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھارتی فوج کا راستہ روکنے کی دھمکی لگا دی۔ بھارت کے اقلیتوں بالخصوص سکھوں پر مظالم سب پر عیاں ہیں اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف سکھ رہنما بھی بول پڑے ہیں۔بھارتی سابق کور کمانڈر نے بھارت کی جنگی صلاحیتوں پر سوال اٹھا تے ہوئے کہا بھارت کے پاس پاکستان سے جنگ کی اہلیت ہے نہ صلاحیت، ہمارے پاس ایسی تکنیکی برتری نہیں جو جنگی کارروائیاں بغیر کسی خوف کے انجام دینے کے لیے درکار ہوتی ہے، جیسے امریکہ کرتا ہے، ہمارے پاس میزائل پاور، ڈرونز، نہ فضائی اور نہ ہی بحری طاقت میں وہ برتری ہے کہ ہم بغیر کسی خطرے کے جنگی کارروائی کر سکیں۔ پاکستان یقینی طور پر جواب میں کارروائی کرے گا، جنگی کارروائیاں ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہیں، یک طرفہ نہیں، سابقہ بھارتی کور کمانڈر کا اعتراف واضح کرتا ہے کہ بھارت جنگ میں پاکستان کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں۔دفاعی ماہرین نے کہا سابق بھارتی کور کمانڈر کا اعتراف حقیقت پر مبنی ہے، کیونکہ کور کمانڈر جنگ کے زمینی حقائق سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز دنیا بھر میں تماشہ بن گئے، پہلگام فالس فلیگ آپریشن بھارت کے ایک ہی طرح کے ڈراموں کا تسلسل ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی پہلگام واقعہ کا الزام بغیر شواہد کے پاکستان پر دھرا گیا۔ ماضی کی نسبت اس بار بین الاقوامی میڈیا نے پہلگام واقعہ کو کوئی کوریج نہ کی۔ یورپی، امریکی اور دیگر ممالک کے میڈیا نے اسے محض خبر کے طور لیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی بے اعتنائی نے بھارتی شہریوں اور ابلاغی نمائندوں کو ہیجان میں مبتلا کر دیا۔
بھارتی صحافی برکھادت نے کہا ماضی کے واقعات جن کا الزام پاکستان پر لگایا گیا کے شواہد اب تک سامنے نہیں آئے۔ دنیا بھارت کے اس مکروہ اور فریبی چہرے کو پہچان چکی ہے۔ 2000 میں چٹی سنگھ پورہ قتل عام کے بعد ابتداء میں لشکرِ طیبہ پر الزام لگایا گیا۔ بعد میں بھارتی آرمی کے چنرل کے ایس گل نے اپنی فوج کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا۔ افضل گورو کی پھانسی کے بعد بھارتی عدالت نے اعتراف کیا کہ ثبوت ناکافی تھے۔2001ء میں پارلیمنٹ پر حملہ کر کے بھارت نے پاکستان پر الزام دھر کر 800 فوجیوں کو قربان کروا دیا۔ پارلیمنٹ پر اس حملے کی بھی تاحال کوئی رپورٹ سامنے نہیں آسکی ہے، ذرائع کے مطابق 2007ء میں سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا۔ یہ بات سامنے آئی کہ سمجھوتہ ایکسپریس حملے کا اصل مجرم آر ایس ایس اور ابھینو بھارت کا نکلا۔ شواہد سے ثابت ہوا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں بھارتی فوجی افسران اور انتہاپسند تنظیمیں ملوث تھیں۔ 2017ء میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارتی وزیر دفاع کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا۔ سابق این آئی اے افسر ستیش ورما نے انکشاف کیا پٹھان کوٹ حملے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار کی سازشی سیاست اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مودی سرکار کی اب دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزارت خارجہ کا بیان اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دنیا جان چکی ہے کہ بھارتی ایجنسیاں خود دہشت گردی کرتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ہے کہ بھارت پاکستان کے پاکستان پر کور کمانڈر بھارت کے بھارت کی کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان