خیبر پختونخوا میں 37 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں: رپورٹ میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
خیبر پختونخوا کے محکمۂ تعلیم کی جانب سے اسکولوں سے باہر بچوں سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی ہے۔
محکمۂ تعلیم کے دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا میں 37 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں، کے پی میں اسکولوں سے باہر بچے و بچیوں کی تعداد 49 لاکھ 20 ہزار ہے۔
پشاور میں 5 لاکھ سے زائد بچے اسکولز سے باہر ہیں جن میں 3 لاکھ 19 ہزار بچیاں شامل ہیں، آبادی کے تناسب سے کولئی پالس کوہستان میں سب سے زیادہ 80 ہزار 333 بچے اسکول سے باہر ہیں۔
اسی طرح لوئر کوہستان اور اپر کوہستان میں 79 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ اپرچترال میں سب سے کم 10 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
اس سے متعلق وزیرِ تعلیم فیصل ترکئی نے کہا کہ حکومت بچوں اور بچیوں کو اسکولوں میں لانے کی کوشش کر رہی ہے، پچھلے سال 13 لاکھ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا گیا تھا، رواں سال 10 لاکھ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سے باہر ہیں فیصد بچے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔