Nawaiwaqt:
2026-07-24@09:18:42 GMT

سپر ٹیکس کیس: جسٹس جمال مندوخیل کا اہم ریمارک

اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT

سپر ٹیکس کیس: جسٹس جمال مندوخیل کا اہم ریمارک

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر رقم پورے ملک سے اکٹھی ہو رہی ہے تو اس پر تمام صوبوں کا برابر کا حق ہے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکیل رضا ربانی عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ 80 ارب روپے میں سے وفاق کو 42.

5 فیصد حصہ ملے گا تو باقی رقم کہاں جائے گی؟ رضا ربانی نے جواب دیا کہ یہ حصہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت تقسیم ہو گا جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ یہ 80 ارب روپے کیسے خرچ ہوں گے اور متاثرین کون ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ فنڈز دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا اور سابقہ فاٹا علاقوں کے لیے مختص ہیں۔ جس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مسئلہ ہے، تو کیا فنڈز پورے ملک میں خرچ ہوں گے؟ اگر پیسہ آپ کے نام پر لیا جائے اور خرچ نہ ہو تو؟ انہوں نے مزید کہا کہ "18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، اور این ایف سی ایوارڈ کی روح کے مطابق فنڈز کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے دوران سماعت کمپنیز کے وکیل مخدوم علی خان نے درخواست کی کہ آڈیٹر جنرل اور سیکرٹری فنانس کو طلب کیا جائے، جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کا جواب آنے دیں، پھر فیصلہ کریں گے عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی، اور ایف بی آر کے وکیل رضا ربانی کل دوبارہ دلائل جاری رکھیں گے

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

اسلام آباد:

ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس