Nawaiwaqt:
2026-07-24@07:57:13 GMT

سپر ٹیکس کیس: جسٹس جمال مندوخیل کا اہم ریمارک

اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT

سپر ٹیکس کیس: جسٹس جمال مندوخیل کا اہم ریمارک

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر رقم پورے ملک سے اکٹھی ہو رہی ہے تو اس پر تمام صوبوں کا برابر کا حق ہے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکیل رضا ربانی عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ 80 ارب روپے میں سے وفاق کو 42.

5 فیصد حصہ ملے گا تو باقی رقم کہاں جائے گی؟ رضا ربانی نے جواب دیا کہ یہ حصہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت تقسیم ہو گا جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ یہ 80 ارب روپے کیسے خرچ ہوں گے اور متاثرین کون ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ فنڈز دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا اور سابقہ فاٹا علاقوں کے لیے مختص ہیں۔ جس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مسئلہ ہے، تو کیا فنڈز پورے ملک میں خرچ ہوں گے؟ اگر پیسہ آپ کے نام پر لیا جائے اور خرچ نہ ہو تو؟ انہوں نے مزید کہا کہ "18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، اور این ایف سی ایوارڈ کی روح کے مطابق فنڈز کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے دوران سماعت کمپنیز کے وکیل مخدوم علی خان نے درخواست کی کہ آڈیٹر جنرل اور سیکرٹری فنانس کو طلب کیا جائے، جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کا جواب آنے دیں، پھر فیصلہ کریں گے عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی، اور ایف بی آر کے وکیل رضا ربانی کل دوبارہ دلائل جاری رکھیں گے

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی