خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات میں داخلے کیلئے انٹری فیس لازم قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے مشہور سیاحتی مقامات کا رخ کرنے والوں کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے۔حکومت نے ناران، کاغان، جھیل سیف الملوک سمیت دیگر مقامات پر داخلے سے قبل انٹری فیس لازم قرار دے دی۔سرکاری دستاویزات کے مطابق اب کسی بھی سیاح کو ان مقامات میں بغیر فیس داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کاغان ویلی میں باقاعدہ طور پر انٹری فیس مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور حسام آباد کے مقام پر انٹری فیس وصولی کے لیے پوائنٹ قائم کیا جائے گا۔فیصلے کے مطابق بڑی گاڑی کے لیے 200 روپے، چھوٹی گاڑی کے لیے 100 روپے اور موٹر سائیکل کے لیے 20 روپے بطور انٹری فیس وصول کیے جائیں گے تاہم مقامی افراد کو اس فیس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔دستاویزات کے مطابق انٹری فیس سے حاصل ہونے والی آمدن ماہانہ لاکھوں روپے تک پہنچنے کی توقع ہے جس سے نہ صرف کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی مالی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ سیاحوں کو مزید سہولیات بھی فراہم کی جا سکیں گی۔سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق انٹری فیس کا مقصد آمدن بڑھانے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، بورڈ آف گورنرز نے انٹری فیس کے نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے اور جلد اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا
جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انٹری فیس کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔