اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاک فوج کے سابق افسران نے پہلگام حملے کو بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاک فوج کے ہمراہ 20 لاکھ سے زائد ایکس سروس مین بھی ملکی دفاع کے لیے تیار ہیں اور قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ بھارت کو کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پہلگام فالس فلیگ آپریشن سےمتعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر میجر جنرل ریٹائرڈ جاوید اسلم طاہر کا کہنا تھا کہ ہم جو کچھ بھی ہیں پاکستان اور افواج پاکستان کی وجہ سے ہیں اور ہم اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

’بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کیا، بھارت کو کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ملکی دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘

جاوید اسلم طاہر کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف کا ایک حکم آئے تو ہم سب جنگ کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ہمارا پیغام ہے کہ بھارت پاکستانیوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے، ہم سب متحد ہیں اور پاکستانی افواج سے اظہار یکجہتی کے لیے موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کا سوچ رہا ہے، جب میں سروس میں تھا اس وقت بھی بھارت نے دہشتگردی کی تھی، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت بہت سی جگہوں پر بھارت نے دہشتگردی کی ہے۔

ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ فہیم ارشد کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئرفورس ٹیکنالوجی اور مین پاور دونوں میں ملکی دفاع کے لیے تیار ہے، 2019 میں ہم نے بھارت پر اپنی فضائی برتری ثابت کی تھی، پاکستان ایئر فورس میں ملک کے بہترین بچے تربیت حاصل کرکے کندن بن کر نکلتے ہیں۔

’ہماری مین پاور وہی ہے جس نے اسرائیل کے جہاز گرائے تھے، ہماری مین پاور دنیا کی بہترین ہے اور ہماری ٹیکنالوجی بھی بھارت سے بہتر ہے، سب سے بڑھ کر ہمارا جذبہ سب سے الگ ہے، جس کا بھارت مقابلہ نہیں کرسکتا۔‘

ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ فہیم ارشد کا کہنا تھا کہ پاک فوج کی طرح پاک فضائیہ کے سابق باصلاحیت ٹیکنیکل افراد مشکل وقت میں ملکی دفاع کے لیے ادنیٰ سے ادنیٰ ذمہ داری بھی نبھانے کے لیے تیار ہیں۔

میجر جنرل ریٹائرڈ خالد جعفری کا کہنا تھا کہ ایکس سروس مین کی پریس کانفرنس کا مقصد پاک فوج کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرنا ہے، ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے، بھارت کی فالس فلیگ آپریشن کی بہت پرانی تاریخ ہے، اس سے قبل صدر کلنٹن کے دورے کے موقع پر سکھوں کا قتل کیا تھا اور اس مرتب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے دورہ بھارت پر پہلگام فالس فلیگ آپریشن کیا گیا۔

میجر جنرل ریٹائرڈ خالد جعفری کے مطابق بیشتر حملوں کو خود بھارتی تحقیقات میں ہی فالس فلیگ ثابت قرار دیا جاچکا ہے، لیکن اس نوعیت کے واقعات سے بھارت کو پاکستان کو بدنام کرنے کا بہانہ مل جاتا ہے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ خالد جعفری کا کہنا تھا کہ پہلگام فالس فلیگ منصوبہ دنیا کے سامنے ناکام ہوچکا ہے، اس واقعہ کی 10 منٹ میں ایف آئی آردرج ہوتی ہے، پہلگام واقعہ پر چین ہمارے ساتھ ہیں۔ ’ہماری فوج دنیا کی بہتری فوج ہے، ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

سندھ ویٹرنز کی نمائندگی کرتے ہوئے بریگیڈیئر جمیل نے کہا کہ ہم ہر وقت جنگ کے لیے تیار ہیں، جنگ انڈیا شروع کرے تو اسے ہم ختم کریں گے، سندھ کے سب غازی ملکی دفاع کے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں، نہ صرف سابق فوجی بلکہ حر مجاہد سمیت قوم کا ہر فرد دفاع وطن کے لیے تیار ہے۔

ویٹرنز کشمیر کے سربراہ بریگیڈیئر سردار زرین خان نے کہا کہ ہم ریٹائرڈ کشمیریوں کی طرف سے آرمی چیف کو پیغام دیتا ہوں کہ ہم ایک لاکھ تربیت یافتہ لوگ ہیں، ہمیں جس لمحے بھی حکم کیا جائے گا ہم مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ 1947 میں بھی ایکس سروس مین نے کشمیر کا خطہ آزاد کرایا تھا، ہم حکومت اور آرمی سے اجازت چاہتے ہیں کہ جہاد کا اعلان کیا جائے کیونکہ بھارت کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے، اگر مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو پھر یہ جنگ ختم ہی ہوجائے گی۔

سردار زرین خان کا کہنا تھا کہ یہ جو لائن آف کنٹرول پر حملوں کی باتیں ہورہی ہیں یہ صرف بھارتی میڈیا پر ہی ہیں، ’میں نے خود معائنہ کیا ہے حالات مکمل کنٹرول میں ہیں۔ کچھ دن بعد راولاٹ اور ہجیرہ میں کانوویکشن کیا جس میں عوام نے جہاد کے اعلان کی اجازت مانگی ہے‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کے خلاف سفارتی سطح پر دوسرے ممالک کو باور کروایا جائے کہ بھارت اس طرح کے فالس فلیگ آپریشن نہ کرے۔

میجر وسیم نے کہا کہ ہم تمام 31 لاکھ ویٹرنز مکمل تیار ہیں اور پارکس میں جنگ کی مسلسل تیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس فوج اور ایئرکرافٹ زیادہ ہیں لیکن جنگیں جیتنے کا یہ معیار ہرگز نہیں بلکہ کامیابی کے لیے جذبہ بھی چاہیے جو ہم پاکستانیوں کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو صرف ابھی نندن نے چائے پی ہے، ہمارے پاس تو بہت سے لوگوں کے لیے چائے تیار پڑی ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی جنگی تیاریوں کی قلعی کھل گئی: خفیہ رپورٹ میں ٹینکوں کے گولہ بارود کی قلت کا انکشاف

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میجر جنرل ریٹائرڈ فالس فلیگ ا پریشن ملکی دفاع کے لیے کے لیے تیار ہیں کا کہنا تھا کہ ایکس سروس مین نے کہا کہ انہوں نے پاک فوج ہیں اور

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان