بلوچستان : بی ایل اے کا سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملہ، پاک فوج کے 7 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
بلوچستان کے علاقے مچھ میں بھارتی آلہ کار کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم حملے میں پاک فوج کے 7جوان شہید اور 5 زخمی ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 6 مئی کو بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں بھارتی ایما پر کام کرنے والی کالعدم تنظیم نام نہاد ’بلوچ لبریشن آرمی‘ کے دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا جہاں مچھ کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی آئی ای ڈی سے ٹکراگئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق بی ایل اے کے دہشت گردوں کے اس بزدلانہ حملے میں پاک فوج کے 7 بہادر جوان جام شہادت نوش کرگئے جبکہ دھماکے میں 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں میں کراچی کے 42 سالہ صوبیدار عمر فاروق، کرک کے 28 سالہ نائیک آصف خان، اورکزئی کے 28 سالہ نائیک مشکور علی، لکی مروت کے 26 سالہ سپاہی طارق نواز، باغ کے 28 سالہ سپاہی واجد احمد فیض، کرک کے 22 سالہ سپاہی محمد عاصم اور کرک کے 28 سالہ سپاہی محمد کاشف خان شامل ہیں۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں موجود کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلئیرنس آپریشن بھی کیا گیا تاکہ اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستانی سرزمین پر کام کرنے والی اس کے پراکسیز کے مذموم عزائم کو بہادر سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاکستان کی بہادر قوم انشاء اللہ شکست دے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے مچھ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بھارتی پراکسی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔وزیراعظم نے شہدا کی بلندی درجات کی دعا کی اور شہدا کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ شہدا کو سلام پیش کرتی ہے، یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی.
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھارتی پراکسی بلوچ لبریشن آرمی کے سیکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔صدر مملکت نے واقعے کے شہدا کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کی اور بہادر جوانوں کے جذبہ حب الوطنی کو سراہا۔آصف علی زرداری نے صوبیدار عمر فاروق، نائیک آصف خان اور دیگر شہدا کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ملکی ترقی اور صوبے کی خوشحالی کے دشمن ہیں. دہشت گرد بلوچستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔صدر آصف زرداری نے شہدا کے لیے بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و جمیل کی دعا کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی مچھ کے قریب سیکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ نام نہاد بی ایل اے بھارتی ایما پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، دہشت گردوں کو انجام تک پہنچائیں گے.بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ہر سازش ناکام بنائیں گے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ بزدلانہ حملہ قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتا، امن کے دشمنوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جائے گی. قوم اپنے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے، پوری ریاست سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پاک فوج کے بی ایل اے کے 28 سالہ نے کہا کہ کے مطابق شہدا کو ایس پی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔