امریکا اور ایران کے درمیان چوتھی بار جوہری مذاکرات ہونے جا رہے ہیں اور پچھلی بار کی طرح اس مرتبہ بھی مقام مسقط ہے۔

ایرانی ویب سائٹ "نورنیوز" نے ایک اعلیٰ عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا آغاز اتوار سے ہوگا۔

اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نور نیوز کو بتایا کہ پچھلی بار کی طرح اس مرتبہ بھی جوہری مذاکرات مسقط میں ہوں گے۔

اس سے قبل ایک امریکی ویب سائٹ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے آغاز کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

امریکی ایلچی نے بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور صدر ٹرمپ اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ہمیں مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں لیکن فی الوقت ہم عمان کے وزیر خارجہ کے اعلان کے منتظر ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن جب سے ڈونلڈ ٹرمپ حکومت میں دوبارہ آئے ہیں، ہم ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جوہری مذاکرات

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل