ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 23 اپریل 2025 کو منعقدہ اجلاس میں 31 مارچ 2025 کو ختم ہوئی سہ ماہی کے مالیاتی گوشواروں کی منظوری دے دی ہے۔

بینک کو جنوری تا مارچ 2025ء کے دوران 840 ملین روپے کا قبل از ٹیکس منافع ہوا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1,028 ملین روپے تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے ڈسکاؤنٹ ریٹ کو 22 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کرنے کے باوجود بینک کی مجموعی آمدن میں 36.

2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ ڈپازٹس اور قرضوں کے پورٹ فولیو میں نمایاں ترقی ہے۔ خالص مارک اَپ آمدن 24.2 فیصد بڑھ گئی، جبکہ نان مارک اَپ آمدن میں 55.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی وجہ نقد لین دین، آن لائن ادائیگیاں، بنڈلز، کارپوریٹ ادائیگیاں، ریکوری اور انشورنس سروسز جیسے ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن ہے۔

ایڈمنسٹریٹو اخراجات میں اضافہ بینک کی طویل المدتی ترقی اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی انفرا اسٹرکچر، انسانی وسائل اور آپریشنل بہتری میں جاری سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔

31 مارچ 2025 تک ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے کسٹمر ڈپازٹس 59.7 فیصد بڑھ کر 101 ارب روپے تک جاپہنچے۔ یہ نمایاں ترقی بینک کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے بچت منصوبوں ”ڈیجیٹل ٹرم ڈپازٹس اور سیونگز پاکٹس“ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ بینک نے 98.7 فیصد کے ساتھ انڈسٹری میں سب سے بلند CASA ریشو برقرار رکھا، جبکہ ڈپازٹس لاگت صرف 1.4 فیصد رہی۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کا ایکویٹی بیس مارچ 2025 تک بڑھ کر 14.9 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو کہ سالانہ بنیاد پر 71.7 فیصد نمایاں اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔ جس کی وجہ بینک کے ریٹین شدہ منافع اور 2024 کی چوتھی سہ ماہی میں اسپانسرز کی جانب سے 10 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔

ایزی پیسہ بینک اس وقت ملک بھر میں 25 برانچوں کے ساتھ کام کر رہا ہے، جو ڈیجیٹل ریٹیل بینک (ڈی آر بی) کے لیے ریگولیٹری ضروریات کے مطابق ہے۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک مستقبل میں اپنی مصنوعات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے، جس میں غیرملکی کرنسی، ہوم ریمیٹنس مصنوعات، اسلامی بینکنگ اور کاروباری صارفین کے لیے حسب ضرورت کمرشل بینکنگ خدمات شامل ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بینک کا کنٹرول فنکشنز میں بھی مزید سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے تاکہ خدمت کے معیار کو بہتر بنایاجا سکے اور صارفین کو مؤثر، محفوظ اور خوشگوار بینکاری تجربہ فراہم کیا جاسکے۔

مستحکم سرمایہ کاری پوزیشن، مسلسل منافع بخش کارکردگی اور مؤثر رسک مینجمنٹ فریم ورک کے اعتراف میں پی اے سی آر اے (پاکرا) نے ایزی پیسہ بینک کی کریڈٹ ریٹنگ کو ’A‘سے بڑھا کر ’A+‘ کر دیا ہے۔ یہ ترقی بینک کی مالی طاقت کا ثبوت اور اس کی آپریشنل مضبوطی اور مستقبل کی پائیدار ترقی کی صلاحیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

اشتہار

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری بینک کی کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ