پہلی بیوی نے سوتن کو 80 فیصد جگر عطیہ کرکے سب کوحیران کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
طائف(انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب کے شہر طائف میں ایک حیران کن اور متاثر کن واقعہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے اپنی سوتن کی جان بچانے کے لیے اپنی قیمتی چیز قربان کر دی۔
تفصیلات کے مطابق نورا سالم الشمری، جو ماجد بلدہ الروقی کی پہلی اہلیہ ہیں، نے اپنے شوہر کی دوسری بیوی تغرید عوض السعدی کو 80 فیصد جگر عطیہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ تغرید طویل عرصے سے گردوں کی ناکامی کے باعث ڈائیلیسز پر تھیں، اور اس بیماری نے ان کے جگر کو بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔
شوہر ماجد نے علاج کے لیے امریکہ سمیت مختلف مقامات کا رخ کیا، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اس صورتحال میں انہوں نے خود اپنی دوسری بیوی کو گردہ دینے کا ارادہ کیا۔ شوہر کی اس قربانی کو دیکھتے ہوئے پہلی بیوی نورا نے انسانیت اور ایثار کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے اپنا جگر دینے کا فیصلہ کیا۔
طبی ٹیسٹ کے بعد دونوں کا بلڈ گروپ میچ ہوا اور کامیاب آپریشن مکمل کیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر میں انسانیت، قربانی اور محبت کی ایک نایاب مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔