معروف امریکی پاپ گلوکارہ ریحانہ کے ہاں تیسرے بچے کی آمد متوقع ہے، جس کی تصدیق انہوں نے حال ہی میں نیویارک میں ہونے والے معروف فیشن ایونٹ ‘میٹ گالا 2025’ کے دوران کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریحانہ نے سیاہ لباس اور ٹوپی پہنے ریڈ کارپٹ پر انٹری دی۔ ریحانہ کا بیبی بمپ نمایاں تھا جس سے ان کی تیسری بار حاملہ ہونے کی خبروں کی تصدیق ہوئی۔

View this post on Instagram

A post shared by Met Gala 2025 (@metgalaofficial_)


ایونٹ کے دوران میڈیا سے گفتگو میں ریحانہ کے پارٹنر، ریپر اے ایس اے پی راکی نے بھی اپنے بیان میں تیسرے بچے کی آمد کی خوشخبری دیتے ہوئے محبت کا اظہار کرنے والے مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔

View this post on Instagram

A post shared by rihana nv (@rihana_nv)


یاد رہے کہ ریحانہ اور راکی کے پہلے سے دو بیٹے ہیں، اور ریحانہ نہ صرف ایک مشہور گلوکارہ بلکہ ایک کامیاب امریکی کاروباری خاتون بھی ہیں جو دنیا بھر میں الگ پہچان رکھتی ہیں۔

فیشن کے جلوے سے بھرپور اس رنگا رنگ ایونٹ ‘میٹ گالا 2025’ میں دنیا بھر سے مشہور شخصیات نے شرکت کی، جن میں بالی ووڈ، ہالی ووڈ کے فنکار فیشن ڈیزائنر، گلوکار اور کاروباری شخصیات شامل تھیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل