امریکی پاپ گلوکارہ ریحانہ کے ہاں تیسرے بچے کی آمد متوقع
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
معروف امریکی پاپ گلوکارہ ریحانہ کے ہاں تیسرے بچے کی آمد متوقع ہے، جس کی تصدیق انہوں نے حال ہی میں نیویارک میں ہونے والے معروف فیشن ایونٹ 'میٹ گالا 2025' کے دوران کی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریحانہ نے سیاہ لباس اور ٹوپی پہنے ریڈ کارپٹ پر انٹری دی۔ ریحانہ کا بیبی بمپ نمایاں تھا جس سے ان کی تیسری بار حاملہ ہونے کی خبروں کی تصدیق ہوئی۔
View this post on InstagramA post shared by Met Gala 2025 (@metgalaofficial_)
ایونٹ کے دوران میڈیا سے گفتگو میں ریحانہ کے پارٹنر، ریپر اے ایس اے پی راکی نے بھی اپنے بیان میں تیسرے بچے کی آمد کی خوشخبری دیتے ہوئے محبت کا اظہار کرنے والے مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔
View this post on InstagramA post shared by rihana nv (@rihana_nv)
یاد رہے کہ ریحانہ اور راکی کے پہلے سے دو بیٹے ہیں، اور ریحانہ نہ صرف ایک مشہور گلوکارہ بلکہ ایک کامیاب امریکی کاروباری خاتون بھی ہیں جو دنیا بھر میں الگ پہچان رکھتی ہیں۔
فیشن کے جلوے سے بھرپور اس رنگا رنگ ایونٹ 'میٹ گالا 2025' میں دنیا بھر سے مشہور شخصیات نے شرکت کی، جن میں بالی ووڈ، ہالی ووڈ کے فنکار فیشن ڈیزائنر، گلوکار اور کاروباری شخصیات شامل تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔