بھارت میں آئی لَو محمد ﷺ بینر پر مسلمانوں پر مقدمات، ریلیوں پر پولیس کا دھاوا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی:بھارت میں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے عقیدت و محبت کے اظہار کو جرم بنا دیا گیا، ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں نے آئی لَو محمد ﷺ کے عنوان سے جلوس نکالا، جسمیں ہر بینر پر آئی لَو محمد ﷺلکھا ہوا تھالیکن انتہا پسند ہندوؤں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا، جس کے بعد پولیس نے کئی روز کی تاخیر سے 20 مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی شہر کانپور میں جلوس کے دوران “آئی لَو محمد ﷺ” کے بینر پر انتہا پسند ہندوؤں نے نہ صرف شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی بلکہ بینر کو پھاڑ کر توڑ پھوڑ بھی کی، افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس نے ہندو انتہا پسندوں کے بجائے مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا اور مقدمہ درج کرلیا۔
اس واقعے کے بعد پورے بھارت میں اشتعال پھیل گیا اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ مسلمانوں نے واضح کیا کہ عشقِ رسول ﷺ کے اظہار پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔
آج بھارتی شہر رائے بریلی میں آئی لَو محمد ﷺ” ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا جو اعلیٰ حضرت درگاہ اور اتحاد ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان کے گھر کے باہر سے نکالی گئی، ریلی پر پولیس نے اچانک دھاوا بول دیا، مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔
اسی طرح سہارنپور میں بھی جمعہ کی نماز کے بعد مسلمانوں نے عشقِ رسول ﷺ کے نعرے بلند کرتے ہوئے ریلی نکالی جس پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔
دوسری جانب بھوپال اور ممبئی سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی “آئی لَو محمد ﷺ” ریلیاں نکالی گئیں جن میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی، عوامی مظاہروں میں بھارتی حکومت اور پولیس کے امتیازی رویے پر سخت احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو کچلنے کی پالیسی بند کی جائے۔
بھارتی مسلم شہریوں نے کہا کہ “آئی لَو محمد ﷺ” کہنا اور بینر لگانا مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور اس پر پابندی یا مقدمات لگانا نہ صرف انسانی حقوق بلکہ مذہبی آزادی پر بھی کھلا حملہ ہے۔
مسلم رہنماؤں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان کے ایمان پر حملے کی مذمت کی جائے اور اس سلسلے میں فوری نوٹس لیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔