دادو کے بعد سیلاب نے لاڑکانہ اور نوشہرو فیروز میں تباہی مچادی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاڑکانہ،نوشہرہ فیروز (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ کے ضلع دادو میں سیلاب سے متاثرہ دیہات کی تعداد 50 ہوگئی جبکہ دادو کی تحصیل میہڑ سے آنے والا سیلابی ریلا لاڑکانہ کے سیہون بچاؤ بند سے ٹکرا گیا۔سیلابی ریلا ٹکرانے سے 3 دیہات اور رابطہ سڑکیں زیرِ آب گئیں، کچے کے علاقے نئوں گوٹھ میں پانی داخل ہوگیا۔ بنیادی صحت مرکز بھی پانی میں ڈوب گیا۔نوشہرو فیروز میں بھی لوپ بند میں شگاف پڑ گیا جس کے باعث بکھری کے قریبی گاؤں زیر آب آگئے جبکہ اس حوالے سے سندھ کے وزیر آب پاشی جام خان شورو کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں بکھری کے قریب بند مکمل طور پر محفوظ ہے ، کہیں شگاف نہیں پڑ ا۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ ایک لاکھ 85 ہزار 550 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرچکے ہیں، متاثرہ افراد کے ساتھ ساتھ ان کی املاک اور مویشیوں کو بچانا بھی اولین ترجیح ہے۔علاوہ ازیں صوبائی رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے۔اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 19 ہزار 180 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 90 ہزار 819 کیوسک ہے۔رپورٹ کے مطابق سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 20 ہزار 470 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 67 ہزار 90 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 51 ہزار 475 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 27 ہزار 620 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی ا مد
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔