data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاڑکانہ،نوشہرہ فیروز (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ کے ضلع دادو میں سیلاب سے متاثرہ دیہات کی تعداد 50 ہوگئی جبکہ دادو کی تحصیل میہڑ سے آنے والا سیلابی ریلا لاڑکانہ کے سیہون بچاؤ بند سے ٹکرا گیا۔سیلابی ریلا ٹکرانے سے 3 دیہات اور رابطہ سڑکیں زیرِ آب گئیں، کچے کے علاقے نئوں گوٹھ میں پانی داخل ہوگیا۔ بنیادی صحت مرکز بھی پانی میں ڈوب گیا۔نوشہرو فیروز میں بھی لوپ بند میں شگاف پڑ گیا جس کے باعث بکھری کے قریبی گاؤں زیر آب آگئے جبکہ اس حوالے سے سندھ کے وزیر آب پاشی جام خان شورو کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں بکھری کے قریب بند مکمل طور پر محفوظ ہے ، کہیں شگاف نہیں پڑ ا۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ ایک لاکھ 85 ہزار 550 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرچکے ہیں، متاثرہ افراد کے ساتھ ساتھ ان کی املاک اور مویشیوں کو بچانا بھی اولین ترجیح ہے۔علاوہ ازیں صوبائی رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے۔اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 19 ہزار 180 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 90 ہزار 819 کیوسک ہے۔رپورٹ کے مطابق سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 20 ہزار 470 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 67 ہزار 90 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 51 ہزار 475 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 27 ہزار 620 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پانی کی ا مد

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب