اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 ستمبر ۔2025 )وفاقی ادارہ شماریات نے دعوی کیا ہے کہ ملک میں 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی بڑھنے کی شرح میں 1.34 فیصد کی کمی واقع ہوئی جس کی وجہ ٹماٹر اور پیاز جیسی جلد خراب ہونے والی اشیاءکی فراہمی میں بہتری ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں معمولی ردوبدل میں حکومتی اقدامات کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ اس کی وجہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے دیگر حصوں میں مون سون کا خاتمہ اور متاثرہ علاقوں میں سیلابی پانی واپس جانا ہے جس کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی معمول پر آرہی ہے.

(جاری ہے)

ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے ٹماٹر کی قیمتیں 23.11 فیصد، چکن 12.74 فیصد، پہلی سہ ماہی کے بجلی چارجز 6.21 فیصد، کیلے 5.07 فیصد، گندم کا آٹا 2.60 فیصد، پیاز 1.17 فیصد، مسور کی دال 0.64 فیصد، چنے کی دال 0.47 فیصد اور لہسن 0.46 فیصد کم ہوئے ہیں دوسری جانب ڈیزل کی قیمتوں میں 1.06 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، انڈے 0.91 فیصد، باسمتی ٹوٹا ہوا چاول 0.84 فیصد، جارجٹ 0.83 فیصد،اری-6/9 چاول 0.78 فیصد، لکڑی 0.59 فیصد، مٹن اور بیف 0.31 فیصد، سبزیوں کا گھی (1 کلو) 0.25 فیصد، انرجی سیور 0.23 فیصد اور مونگ کی دال 0.10 فیصد بڑھ گئی ہیں.

ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.43 فیصد کمی کے ساتھ 3.82فیصد رہی 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.59 فیصد کمی کے ساتھ 4.02 فیصد اور 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.34 فیصد کمی کے ساتھ4.89 فیصد ریکارڈ کی گئی.

ادارہ شماریات کے مطابق 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.31 فیصد کمی کے ساتھ 4.97 فیصد رہی اور 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.23فیصد کمی کے ساتھ 3.47فیصد رہی ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟