Jasarat News:
2026-06-02@22:53:03 GMT

ترکیہ اور امریکا میں ایف 35طیاروں کے مذاکرات متوقع

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان امریکی ساختہ ایف35 لڑاکا طیاروں کی خریداری سے متعلق اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کے روز بات چیت کریں گے۔ اردوان نے کہا کہ اب ہم اس معاملے پر دوبارہ مذاکرات کریں گے۔ ہمیں توقع ہے کہ امریکا وہ کرے گا، جو اس کے حق میں بہتر ہے۔ چاہے وہ ایف 35 طیاروں کا معاملہ ہو یا ایف 16 طیاروں کی تیاری اور مرمت وغیرہ۔ یاد رہے کہ امریکا نے 2020 ء میں ناٹو اتحاد کے اہم رکن ترکیہ پر پابندیاں عائد کیں تھیں کیونکہ انقرہ نے 2019 ء میں روسی ساختہ میزائل شکن دفاعی نظام ایس 400 خریدے تھے۔ اس کے بعد امریکا نے ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کے پروگرام سے نکال دیا تھا، جس میں وہ نہ صرف تیاری میں شریک تھا بلکہ خریداری بھی کر رہا تھا۔ تاہم واشنگٹن نے طویل انتظار کے بعد ترکیہ کی درخواست منظور کی، جس کے تحت انقرہ نے 100 ایف 35 طیارے خریدنے کے لیے 1.

4 ارب ڈالر ادا کیے اور طیاروں کے جدید آلات حاصل کرنے کی اجازت ملی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف 20 ممالک کے پاس ایف 35 لڑاکا طیارے ہیں، جو دنیا کے سب سے جدید لڑاکا طیاروں کی خصوصیات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ ان میں امریکا اور اس کے 19 قریبی اتحادی شامل ہیں۔ اس کلب کے رکن ممالک میں آسٹریلیا، جنوبی کوریا، برطانیہ، اسرائیل اور اٹلی شامل ہیں۔ نیوز ویک امریکی میگزین کے مطابق اس کلب کی رکنیت حاصل کرنا واشنگٹن کے ساتھ باہمی اعتماد کا مضبوط ثبوت سمجھا جاتا ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟