سعودی عرب کی یمن کے لیے بھاری مالی امداد
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ریاض:سعودی عرب نے یمن کے عوام کے لیے سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیر نو کے تحت 1.38 بلین سعودی ریال (368 ملین امریکی ڈالرز سے زائد) کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔سعودی اخبار ”سعودی گزٹ“ کے مطابق یہ امداد خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی سفارشات کی بنیاد پر فراہم کی جا رہی ہے، جو مملکت کی یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے عزم کا ثبوت ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، یہ امدادی پیکیج یمن کی اقتصادی، مالی اور مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جو کہ شدید اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔یہ امداد یمن کے صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر دی جا رہی ہے۔
اس امداد کا دائرہ کار حکومت کے بجٹ کی معاونت، ایندھن کی فراہمی، اور عدن میں شہزادہ محمد بن سلمان اسپتال کے عملیاتی بجٹ کو شامل کرتا ہے۔بیان میں زور دیا گیا ہے کہ یہ امداد حکمرانی کے اصولوں کے تحت دی جا رہی ہے تاکہ یمنی حکومت کی اقتصادی اصلاحات کو تقویت دی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔