سعودی عرب کی یمن کے لیے بھاری مالی امداد
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض:سعودی عرب نے یمن کے عوام کے لیے سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیر نو کے تحت 1.38 بلین سعودی ریال (368 ملین امریکی ڈالرز سے زائد) کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔سعودی اخبار ”سعودی گزٹ“ کے مطابق یہ امداد خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی سفارشات کی بنیاد پر فراہم کی جا رہی ہے، جو مملکت کی یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے عزم کا ثبوت ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، یہ امدادی پیکیج یمن کی اقتصادی، مالی اور مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جو کہ شدید اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔یہ امداد یمن کے صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر دی جا رہی ہے۔
اس امداد کا دائرہ کار حکومت کے بجٹ کی معاونت، ایندھن کی فراہمی، اور عدن میں شہزادہ محمد بن سلمان اسپتال کے عملیاتی بجٹ کو شامل کرتا ہے۔بیان میں زور دیا گیا ہے کہ یہ امداد حکمرانی کے اصولوں کے تحت دی جا رہی ہے تاکہ یمنی حکومت کی اقتصادی اصلاحات کو تقویت دی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔