حضرو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2025ء) رکن قومی اسمبلی اور ممبر سپریم جوڈیشل کمیشن شیخ آفتاب احمد نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں برادر ممالک کے تاریخی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے اور پاکستان و سعودی عرب کے سلامتی و دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا قریبی دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے، اور یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ شیخ آفتاب احمد نے اس موقع پر قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کی وژنری قیادت، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی بھرپور کاوشوں اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی حکمتِ عملی، قومی یکجہتی اور عوامی اعتماد کے باعث پاکستان کو عالمی سطح پر عزت و وقار ملا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف عوامی اور پارلیمانی تعلقات کو فروغ دے گا بلکہ اسلامی یکجہتی اور بھائی چارے کی عملی تصویر ہے۔ پاکستان امتِ مسلمہ کا واحد ملک ہے جس پر اسلامی دنیا کی نظریں ہیں اور پاکستان مسلم اُمہ کے تحفظ اور دفاع کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔ شیخ آفتاب احمد نے مزید کہا کہ 10 مئی کو پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے سے پانچ گنا بڑی فوج کو شکست دی ہے،پاکستان نے بھارت کو سفارتی اور دفاعی محاذ پر شکست دے کر دنیا میں ایک نیا مقام پیدا کیا ہے۔\378.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شیخ آفتاب احمد کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل