Jasarat News:
2026-06-03@05:33:30 GMT

سعودی عرب سے معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں، پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد،لندن(نمائندہ جسارت ،مانیٹرنگ ڈیسک)دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے جو کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے، معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتی ہے  جبکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ دہائیوں پر مشتمل مضبوط شراکت داری کو باضابطہ شکل دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے اور مشترکہ سلامتی کو یقینی بناتا ہے، معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔شفقت علی خان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی فرمانروا کی دعوت پر 17 ستمبر کو سعودی عرب کا دورہ کیا، اس موقع پر وزیراعظم کا شاندار استقبال بھی کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سطح پر مذاکرات ہوئے۔انہوں نے کہا کہ 1960 کی دہائی سے دفاعی تعاون پاکستان سعودی تعلقات کا بنیادی ستون رہا ہے، اسی سلسلے کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان اور ولی عہد سعودی عرب نے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں منعقدہ ہنگامی اسلامی سربراہی اجلاس میں اسرائیلی جارحیت پر غور کیا گیا، جس کے بعد وزرائے خارجہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا جسے متفقہ طور پر منظور کرکے اسرائیلی حملے غیر قانونی و بلااشتعال قرار دیے گئے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور ثالثی پر قطر کے کردار کو سراہا، پاکستان نے معاملہ انسانی حقوق کونسل جنیوا میں بھی اٹھایا اور فوری بحث کا مطالبہ کیا۔علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پاگیا اس میں کئی ماہ لگے ہیں۔پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو ہونے والے کنونشن کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلیے دورہ کیا۔ لندن میں اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ بلا ضابطہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک بھی ایسے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس بارے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، وہ بھی اس معاہدے سے خوش ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی حمایت بڑی اہم تھی، ہر مسلمان تو ویسے بھی حرمین شریفین پر قربان ہونے کیلیے تیار ہوتا ہے۔ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاک۔سعودی عرب دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شرکت کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم کچھ ممالک خواہش ضرور رکھتے ہیں۔دریں اثناء وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خفیہ شرائط نہیں، کسی دوسرے ملک نے چاہا تو انھیں بھی معاہدے میں شامل کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ شق موجود نہیں، اگر کوئی دوسرا ملک چاہے تو اس معاہدے میں اسے شامل کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا دائرہ کار دیگر ممالک تک بھی بڑھ سکتا ہے، کیوں کہ اپنی سلامتی کے لیے خطے کے ممالک کو میلوں دور کسی دوسرے ملک پر انحصار کرنے کے بجائے ایک خود مختار اور باصلاحیت ملک پر بھروسہ کرنا ہوگا جو انہیں حقیقی تحفظ فراہم کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں سعودی عرب کے لیے مددگار ثابت ہوں گی، دنیا اس وقت ایٹمی جنگوں سے محفوظ ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کیخلاف جارحیت ہوئی تو سعودی عرب دفاع میں مدد کرے گا اور اگر سعودی عرب کیخلاف جارحیت ہوئی تو پاکستان دفاع میں مدد کرے گا۔دوسری جانب پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی دفاعی معاہدے نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں نئی جہت متعارف کروا رہا ہے اور اس کے اثرات بھارت سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے تجزیہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی اتحاد ایک نئی دفاعی صف بندی کی عکاسی کرتا ہے، جو امریکا پر خلیجی ریاستوں کے کم ہوتے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملے نے خطے کو جھنجھوڑ دیا ہے اور اب واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک امریکا پر اپنا انحصار کم کر رہے ہیں۔امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چین، ترکی اور اب سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل ہے، جس سے پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ پاکستان اور سعودی عرب کہا کہ پاکستان دفاعی معاہدے سعودی عرب کے اسحاق ڈار نے کہ سعودی عرب دونوں ممالک معاہدے میں ڈار نے کہا کے درمیان نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر

انور عباس:پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کے زیر انتظام 80 ویں اٹلی ڈے ہر عشائیے کا انتظام کیا گیا جس میں متعدد سفارتی، سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں عشائیے کا آغاز اٹلی اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا عشائیے سے خطاب میں پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا کہ اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان دوستی، کشادہ دلی اور احترام سے بھرپور ایک خوبصورت ملک ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 ماریلینا آرمیلین کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے، قونصلر رسائی اور دیگر سفارتی عوامل میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطالوی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین مین سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی اٹلی میں مقیم ہے، اپنی مدت ذمہ داری کے دوران پاک اٹلی تعلقات میں بہتری کے لئے بہت محنت کی ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 مہمان خصوصی وزیر مملکت علی پرویز ملک نے اعادہ کیا کہ پاکستان اور اٹلی مشترکہ اہداف رکھتے ہیں دونوں کے باہمی تعلقات نے 78 برس مکمل کر لئے ہیں، پاک یورپی تزویراتی مذاکرات کے بعد امید ہے کہ اطالوی کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے مل کر کیک بھی کاٹا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد