پاکستان نے غیر ملکی ائیر لائنز کو بھارت جانے کی اجازت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
کراچی: پاکستان نے غیر ملکی ائیر لائنز کو بھارت جانے کیلیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔
ذرائع نے بتایا کہ ازبک ائیرویز کی پرواز لاہور کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے بھارتی پنجاب داخل ہوگئی، ازبک ائیرویز کا طیارہ تاشقند سے دہلی جا رہا ہے، طیارہ کشمیر کے قریب طے شدہ روٹ سے ہٹ کر لاہور سے گزرا۔
دوسری جانب بھارت کے بزدلانہ حملے کے بعد لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر فضائی آپریشن بحال کر دیا گیا جہاں نجی ایئر لائن کی پرواز لاہور سے کراچی کیلیے روانہ ہوئی۔
نجی ایئر لائن کی پرواز مسقط سے کراچی ایئرپورٹ لینڈ کر گئی، دبئی سے پرواز ایف زیڈ 333 کچھ دیر بعد کراچی ایئرپورٹ لینڈ کرے گی۔
دبئی سے کراچی کیلیے پرواز ای کے 600 روانہ ہوئی۔ ذرائع ایئرپورٹ کے مطابق پرواز اگلے ایک گھنٹے بعد کراچی لینڈ کرے گی۔
پاکستان نے بھارت کیلیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے جس کی وجہ سے بھارتی طیاروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور ایئر لائنز کو 200 کروڑ سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔
گزشتہ 9 روز کے دوران ایک ہزار سے زائد بھارتی پروازیں اس بندش کے باعث متاثر ہوئی، بھارتی ایئر لائنز کو 9 روز کے دوران 200 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کا سامنا ہے۔
ایئر انڈیا، آکاساایئر، اسپائس جیٹ، انڈیگوایئر، ایئر انڈیا ایکسپریس کی پروازیں منسوخ ہوئی، لمبے روٹ سے فیول، دیگر دگنے اخراجات نے بھارتی ایئر لائنز کی کمر توڑ دی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،