پاک بھارت کشیدگی: اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، صدر رجب طیب اردوان
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ہندوستان کی بلااشتعال جارحیت کے بعد ترکیہ کی پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر بھارت کے بزدلانہ حملے نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔
ترکیہ صورتحال کی کشیدگی کو کم کرنے کی حمایت کرتا ہےترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ صورتحال کی کشیدگی کو کم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان کے دیرینہ دوست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف سے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا۔
وزیر اعظم نے ہندوستان کی بلااشتعال جارحیت کے بعد ترکیہ کی پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کی تعریف کی۔ انہوں نے بھارت کے میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی جس کے نتیجے میں 26 بے گناہ مرد، خواتین اور بچے شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر بھارت کے بزدلانہ حملے نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ترکیہ کا بحریہ جہاز خیرسگالی دورے پر کراچی بندرگاہ پہنچ گیا
صدر اردوان نے پاکستانی شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہتے ہوئے پاکستانی عوام کے ساتھ ترکیہ کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔
خطے میں امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے پوری قوت اور طاقت کے ساتھ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، بھارت کی بغیر کوئی ثبوت فراہم کیے پہلگام واقعے میں پاکستان کو جھوٹ کی بنیاد پر ملوث کرنے کی کوششوں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے اس واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کا جواب نہیں دیا اور اس کے بجائے جارحیت اور غیر ذمہ دارانہ ریاستی رویے کا خطرناک راستہ اختیار کیا۔
صدر اردوان نے بتایا کہ ترک وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے آج بات کی ہے اور دونوں نے موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ترکیہ کی بھارتی جارحیت کی شدید مذمت اور پاکستان سے مکمل اظہارِ یکجہتی
انہوں نے کہا کہ ترکیہ صورتحال کی کشیدگی کو کم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان کے دیرینہ دوست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک قوم پاکستان کے سفارتی اقدامات کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کے اردوان نے نے کہا کہ ترکیہ کی انہوں نے کرنے کی کے ساتھ کرتا ہے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔