’اللہ اکبر تیار ہیں ہم‘ قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتا نیا جنگی ترانہ ریلیز
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
’اللہ اکبر تیار ہیں ہم‘ قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتا نیا جنگی ترانہ ریلیز WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) موجودہ کشیدہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانی قوم کے جذبات کی عکاسی کرتا ایک نیا جنگی ترانہ ”اللہ اکبر۔۔ تیار ہیں ہم“ ریلیز کر دیا گیا۔
نغمہ میں شامل شاعری دل کو گرما دینے والی ہے، جبکہ سحر انگیز آواز نے سننے والوں کو جذبے، عزم اور فخر کے ایک نئے احساس سے روشناس کرایا ہے، اس ملی ترانے کے بول ’غالب ہیں، خدا کا وار ہیں ہم، لڑنے کیلئے تیار ہیں ہم‘، ہر پاکستانی کی زبان پر آ گئے ہیں۔
نغمے میں بھارت کو واضح پیغام دیا گیا کہ اُسے معلوم نہیں کہ وہ کس قوم سے ٹکرایا ہے، ملی نغمے میں کہا گیا کہ پاکستان ایک ایسی قوم ہے جو دینِ اسلام کے نام پر بنی اور اس کی فوج ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کو اپنا موٹو سمجھتی ہے۔
پاک فوج ہر طرح کی بھارتی جارحیت پر جوابی وار کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، برق رفتار، جدید ہتھیاروں سے لیس سامان حرب اور سخت ترین ٹریننگ مسلح افواج کا طرہ امتیاز ہے۔
یہ ملی نغمہ پاک فوج کی بہادری، قربانی اور قومی اتحاد کی ترجمانی کرتا ہے، اور قوم کے ہر فرد کے دل کی آواز بن چکا ہے، اس میں بار بار گونجنے والا ”اللہ اکبر“ کا نعرہ سننے والوں کے دلوں میں جرات، حوصلے اور ہمت کی ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔
جنگی ترانہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے آفیشل یوٹیوب چینل سے جاری کیا گیا جسے اب تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں، ملی نغمے میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قومی عزم، دفاع وطن کے جذبے کی عکاسی کی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسلح افواج پوری طرح چوکس، بھارت کے 12 ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا: ترجمان پاک فوج کراچی، لاہور، اسلام آباد اور سیالکوٹ کی فضائی حدود عارضی طور پر بند، نوٹم جاری گجرات، ڈنگہ کے قریب کھیتوں میں ڈرون گرکرتباہ پاک بھارت کشیدگی، پی ٹی آئی کا قومی اتحاد کیلئے ایک بار پھر عمران خان کی رہائی کا مطالبہ معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا مکمل حساب لیا جائیگا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک اعلان فرانس نے پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل کو مار گرانے کی تصدیق کردی بھارت کے ساتھ جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،وزیراعظم کا قوم سے خطابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تیار ہیں ہم جنگی ترانہ اللہ اکبر قوم کے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔