واہگہ بارڈر، گورنرسندھ نے مکا لہرا کر بھارت کو للکارا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2025ء)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اپنی اہلیہ، 2 سالہ بیٹے سمیت دونوں بیٹوں اور بیٹی کے ساتھ واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھی۔انہوں نے جوانوں کا خون خوب گرمایا، انہیں داد بھی دی اورمکا لہرا کر بھارت کو للکارا۔
(جاری ہے)
اس موقع پر میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ بھارت نے حملے میں شہریوں کو نشانہ بنایا۔گورنرسندھ نے کہا کہ سپہ سالار جنرل سید حافظ عاصم منیر کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔انہوں نے کہاکہ پائلٹس کو سلام پیش کرتا ہوں، جنھوں نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے،سفارتی محاذ پر پاکستان کی جیت ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔