واہگہ بارڈر، گورنر سندھ نے مکا لہرا کر بھارت کو للکارا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اپنی اہلیہ، 2 سالہ بیٹے سمیت دونوں بیٹوں اور بیٹی کے ساتھ واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھی۔
انہوں نے جوانوں کا خون خوب گرمایا، انہیں داد بھی دی۔ مکا لہرا کر بھارت کو للکارا۔
اس موقع پر گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ بھارت نے حملے میں شہریوں کو نشانہ بنایا۔
گورنرسندھ نے واہگہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپہ سالار جنرل سید حافظ عاصم منیر کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ پائلٹس کو سلام پیش کرتا ہوں، جنھوں نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے۔ سفارتی محاذ پر پاکستان کی جیت ہوئی ہے۔
کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستانی عوام جوانوں کی جرات کو سلام کرنے واہگہ بارڈر پہنچے تھے، سرحد کی دوسری طرف کوئی شہری نہ آیا، سناٹا چھایا رہا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔