سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کے باعث کاروبار کو عارضی وقت کے لیے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 08 مئی ۔2025 )پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کے باعث کاروبار کو عارضی وقت کے لیے روک دیا گیا بازارِ حصص میں جمعرات کے روز کاروبار کا آغازمندی ہی سے ہوا جس کے بعد مارکیٹ پر مندی کا رجحان غالب رہا ایک موقع پرکے ایس ای 100 انڈیکس میں 1346 پوائنٹس کی مندی دیکھی گئی، جس سے انڈیکس گھٹ کر ایک لاکھ 8 ہزار 662 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا.
(جاری ہے)
بعد ازاں پی ایس ایکس میں مندی کا رجحان بڑھتا گیا اور 6948 پوائنٹس کی بڑی مندی کے باعث کاروبار معطل کردیا گیا، اس وقت تک کے ایس ای 100 انڈیکس گھٹ کر ایک لاکھ 3 ہزار 60 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا تھا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی نوعیت کی مندی کی وجہ سے ٹریڈنگ کو عارضی وقت کے لیے روکا گیا ہے. مارکیٹ ذرائع کے مطابق اسٹاک ٹریڈنگ کو 5فیصد سے زائد گھٹنے کی وجہ سے ریگولیشنز کے تحت ایک گھنٹے کے لیے روکا گیا ہے انڈیکس 6948 پوائنٹس گھٹ کر ایک لاکھ 3ہزار 60پوائنٹس کی سطح پر معطل ہے پاکستان اسٹاک ایکسچینج انتظامیہ نے ٹریڈنگ کے عارضی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پوائنٹس کی کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔