پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر ایک بھرپور اور سنجیدہ پیغام دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان فوری مکالمے اور عالمی برادری کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

علی ظفر کے سوشل میڈیا پیغامات نہ صرف عوامی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ جنگ کے اندھے جنون پر ایک تلخ سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ اپنی ٹویٹس میں علی ظفر نے انکشاف کیا کہ ’’ابھی ابھی ہمارے گھر کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔‘‘

یہ بیان ان فضائی کارروائیوں کے پس منظر میں آیا ہے جن میں پاکستانی افواج نے مبینہ طور پر سرحد پار سے آنے والے ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ علی ظفر نے جنگ کے نعروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’جو لوگ جنگ کے ڈھول پیٹ رہے ہیں، کیا وہ سمجھتے بھی ہیں کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ یہ فلم نہیں ہے، جنگ تباہی ہے!‘‘

اس سخت مگر حقیقت پسندانہ مؤقف کے ساتھ علی ظفر نے ایک طرف جہاں پاک افواج پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، وہیں عالمی برادری سے فوری مداخلت کی بھی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا ’’ایسی اشتعال انگیزیاں، جو معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں، شدید قابلِ مذمت ہیں۔ ہم نے ہمیشہ اپنی افواج پر مکمل اعتماد رکھا ہے، مگر یہ سمجھنا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کمزوری ہے، ایک بڑی غلط فہمی ہوگی۔‘‘

We just heard blasts from our home.



To those beating the drums of war, celebrating violence, provoking further conflict — do you truly understand what a war between two nuclear nations could mean?

This isn’t a movie. War is devastation. Innocent lives — children, families — pay…

— Ali Zafar (@AliZafarsays) May 8, 2025

انہوں نے مزید کہا کہ وقت آچکا ہے کہ عالمی ادارے اس کشیدگی کو روکنے کے لیے فی الفور عملی اقدامات کریں۔

علی ظفر نے زور دیتے ہوئے کہا ’’بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔ اب بات کریں، سنیں، مسئلے کا حل نکالیں، اس سے پہلے کہ سب کچھ قابو سے باہر ہو جائے۔‘‘

From what I understand, the blasts were to intercept drones from across the border.

Such provocations, risking innocent lives, are highly condemnable.

We have always had complete faith in our armed forces to protect us and respond with strength and clarity when needed.
We stand… pic.twitter.com/cSRIVCz3eS

— Ali Zafar (@AliZafarsays) May 8, 2025

اپنے اختتامی پیغام میں علی ظفر نے ایک ایسا جملہ لکھا جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا: ’’ہر جان قیمتی ہے، ہر قوم کو تحفظ کا حق ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان زندہ باد!‘‘

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علی ظفر نے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔

مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ

ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا