جنگی حالات میں میرا پیغام جس کو ٹھیک لگے ٹھیک، نہیں لگے تو بھاڑ میں جائے: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
علی امین گنڈاپور—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی حالات میں میرا پیغام جس کو ٹھیک لگے ٹھیک، نہیں لگے تو بھاڑ میں جائے۔
انہوں نے اڈیالہ جیل سے واپسی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے آج مجھے اپنے لیڈر سے ملاقات سے روکا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میں ایک صوبے کا وزیرِ اعلیٰ ہوں، ہمیں کوئی راستہ بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ سے کہتا ہوں کہ اب آپ کا کوئی ایم این اے میرے صوبے میں داخل ہو کر دکھائے۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی حالات میں میرا پیغام یہی ہے، جس کو ٹھیک لگے ٹھیک، نہیں لگے تو بھاڑ میں جائے۔
بھارتی ڈرونز گرانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسینوزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ عدالت نے مجھے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی ہے۔
علاوہ ازیں وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے بھارتی جارحیت اور ڈرونز حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔
انہوں نے بھارتی ڈرونز گرانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمارے سیکیورٹی ادارے ہمہ وقت چوکس ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت 2 دنوں سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا کا مزید کہنا ہے کہ مودی پاکستان کے خلاف جارحیت سے باز آئیں، ورنہ نتائج کے لیے تیار رہیں۔
علی امین گنڈاپور کا یہ بھی کہنا ہے کہ دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔