ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کیخلاف توہینِ عدالت کی کارروائی معطل کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے حکم نامہ جاری کر دیا۔
سنگل بینچ کو انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے تک ڈی جی امیگریشن کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے روک دیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور ڈائریکٹر نیب کو جاری توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس معطل کردیا۔
عدالت نے ڈی جی امیگریشن کے خلاف سنگل بینچ میں توہینِ عدالت کی کارروائی پر حکمِ امتناع برقرار رکھتے ہوئے 28 اپریل کا حکم نامہ بھی معطل کر دیا۔
عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ 26 مارچ کو ڈویژن بینچ نے مقدمات کو یکجا کرنے کی ہدایت دی، محسوس ہوتا ہے کہ لفظ معطلی کے مفہوم کے بارے میں کچھ غلط فہمی پائی جاتی ہے جس کی وضاحت ضروری ہے، بلیک لاء ڈکشنری کے مطابق معطلی کا مطلب کسی چیز کو عارضی طور پر روکنا، موقوف کرنا یا تعطل پیدا کرنا ہے، لفظ معطل کرنے کا مطلب کسی اجازت یا لائسنس کو منسوخ یا ختم کرنا نہیں بلکہ عارضی طور پر اس اجازت یا حق سے محروم کرنا ہوتا ہے۔
تحریری حکم نامے میں عدالت نے کہا ہے کہ یہ کسی سرکاری افسر، وکیل یا مذہبی شخصیت کو کچھ مدت کے لیے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، موجودہ کیس میں عدالت نے واضح طور پر عدالتی حکم کو معطل کیا تھا، اس معطلی کا مطلب یہی تھا کہ وہ حکم مؤثر نہیں رہا اور اس کی بنیاد پر کوئی بھی قانونی یا عملی کارروائی درست قرار نہیں دی جا سکتی، معطل شدہ حکم پر عمل درآمد اس وقت تک ممکن نہیں رہتا جب تک دوبارہ بحال نہ کیا جائے، عدالتی نظم و ضبط کا تقاضہ یہ ہے کہ اپیلٹ فورم کوئی حکم معطل کرے تو عدالت کارروائی سے گریز کرے۔
عدالت نے تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ معطلی کے باوجود عدالت کا کارروائی کو آگے بڑھانا قانونی اصولوں کے خلاف اور اپیلٹ عدالت کے اختیار کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سنگل جج نے معطل شدہ حکم کی بنیاد پر ایک نیا حکم کیسے جاری کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈی جی امیگریشن اینڈ عدالت کی کارروائی عدالت کا عدالت نے کے خلاف
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔