سٹی 42 : وزیراعظم آزادجموں و کشمیر  چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ مسلح افواج پاکستان کے ساتھ کشمیری سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں، پاکستان کو مضبوط و مستحکم کرنے کیلئے کشمیری کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ 

وزیراعظم آزادجموں و کشمیر  چوہدری انوارالحق نے قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت تمام اختلافات کو بھلا کر اتحاد و یکجہتی کا ہے، روشن پاکستان کشمیریوں کی امید ہے ، پاکستان کو مضبوط و مستحکم کرنے کیلئے کشمیری کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے حالت جنگ میں تمام بجٹ موجودہ حالات سے نمٹنے کیلیے مختص کر دیا ہے، شہداء اور رخمیوں کی امداد کے لئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو فنڈز منتقل کر  دیئے ہیں، لائن آف کنٹرول اور حملوں سے متاثرین کی منتقلی کے لئے حکومت رہائش فراہم کر رہی ہے.

 

پنجاب بھر کے سکولوں میں  تعطیلات کا اعلان

وزیراعظم آزادکشمیر  نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کے ساتھ کشمیری سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں ، جںرل عاصم منیر کو نیویارک ٹائمز نے مرد آہن کہا وہ ہماری آن اور شان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کے اجلاس کے حوالے سے بھارتی سپانسرڈ اکاؤنٹس سے پروپیگنڈہ کیا گیا کہ قانون ساز اسمبلی کی عمارت کو نشانہ بنایا جائے گا، ہم نے مشاورت کی اور متفقہ فیصلہ کیا کہ اجلاس چلے گا ، کسی کیلئے کوئی مورچہ نہیں ہے اب تو شہر نشانے پر ہیں، ہم پاکستان کیلیے جئیں گے اور پاکستان کی حرمت کیلیے مریں گے ۔ 

علی امین گنڈا پور کا اڈیالہ جیل کی جانب پیدل مارچ، پولیس سے تلخ کلامی

انہوں نے کہاکہ بھارت نے انٹرنیشنل بارڈر کی خلاف ورزی کی ہے مسلح افواج پاکستان اسکا جواب دیں گی، اگر بھارت نے آبی جارحیت کی اور ہمارے ڈیمز کو نشانہ بنایا تو ڈیم اسکے بھی نہیں بچیں گے ، ہاوس میں کھڑے ہو کر کہہ رہا ہوں کہ پاک فوج ردعمل دیگی اور ڈنکے کی چوٹ پر دیگی۔ مظفرآباد میں کھڑے ہو کر پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ کشمیر کیلیے تین جنگیں لڑی ہیں سات اور لڑیں گے ۔ 

چوہدری انوارالحق نے کہا کہ تحریک الحاق پاکستان کے نظریے کے پہرہ دار ہیں، دشمن کی جانب سے کسی بھی ردعمل کے لئے ہمیں ذہنی اور فکری طور پر تیار رہنا ہے، ہمیں اللہ پاک کی ذات ،مسلح افواج پاکستان اور پاک فوج کے  سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر پر غیرمتزلزل یقین ہے. انہوں نے کہا کہ جو خاندان مقبوضہ کشمیر سے واپس آئے ہیں حکومت مکمل طور پر ان کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے گی، مودی گجرات کا قصائی ہے اور بہت بڑا دہشت گرد ہے, وہ انسانیت کا قاتل ہے، مودی کو  پھانسی ہونی چاہیئے. 

بھارتی جارحیت سے شہریوں کی شہادت؛ سپریم کورٹ کے تمام ججز کا ایک رسمی تعزیتی اجلاس منعقد

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مسلح افواج پاکستان نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم