سیالکوٹ میں بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ، پنجاب رینجرز کی مؤثر جوابی کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) بھارتی فورسز نے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیالکوٹ کے بجوات سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کا آغاز کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے جان بوجھ کر دیہی آبادیوں کو نشانہ بنایا، جس سے مقامی شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
بھارتی جارحیت کے جواب میں پنجاب رینجرز کی جانب سے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں دشمن کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا، تاہم پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
مقامی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
پاکستانی سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اور کسی بھی مہم جوئی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:سیکیورٹی خدشات، آئی پی ایل میچ صرف 10 اوورز تک ہی جاری رہ سکا،سٹیڈیم لائٹس بند ہونے کا بہانہ کرکے منسوخ کردیا گیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارتی فورسز
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔