بھارت نے 24 مقامات پر ڈرون حملے کیے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلام آباد سے لے کر کراچی تک 24 مقامات پر بھارت نے ڈرونز سے حملے کرنے کی کوشش کی، پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز پاک فوج نے مار گرائے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارتی جارحیت کا اپنے طے کردہ وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، بھارت نے کوئی ایڈونچر کیا تو ہماری آرمی، نیوی اور فضائیہ الرٹ ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی پنجاب میں کسی بھی شہری علاقے میں کارروائی نہیں کی، بھارتی حکام نے جھوٹ بول کر پاکستان میں ڈرونز حملوں کی توجیہہ پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ چھتیس گھنٹے پہلے ہی پاک فضائیہ نے بھارت کے پانچ جنگی جہاز مار گرائے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت اور فوج قوم کی حفاظت کی ذمے داری نبھائے گی، قوم سکون اور چین سے رہے، آئندہ بھی بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔