جماعت اسلامی کا بھارتی جارحیت کیخلاف کل ’’یوم عزم‘‘ منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
لاہور:
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ 9 مئی کو ملک بھر میں ’’یوم عزم‘‘ منایا جائے گا جس میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی اور بھارت کی جارحیت کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بھارت کے حملے میں 30 سے زائد پاکستانی شہید ہوئے جن کی شہادتیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاک فوج کی جانب سے جوابی کارروائی قابل تحسین ہے، تاہم موجودہ حالات میں مزید ٹھوس اور واضح اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر کے جو اشتعال انگیزی کی، اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے تاکہ دشمن کی نسلیں یاد رکھیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائے اور ملکی یکجہتی کو یقینی بنائے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستانی قوم بدلے کی منتظر ہے، ہمیں صرف شہادتوں کا بدلہ چاہیے، ’’فیس سیونگ‘‘ نہیں۔ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، افواج پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، قوم حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت و اسرائیل کا رویہ یکساں ہے، اس وقت بھی بھارت اسرائیلی اسلحہ استعمال کر رہا ہے۔ غزہ پر قبضے کے خلاف سات یورپی ممالک کا موقف قابل تحسین ہے، پاکستان کو بھی عالمی سطح پر جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ حکومتی وزراء غیر ذمہ دار بیانات سے گریز کریں اور بین الاقوامی میڈیا پر پاکستان کا مقدمہ پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکومت آر ایس ایس کے انتہا پسند نظریے پر قائم ہے جس نے ہمیشہ نفرت کو فروغ دیا۔ مودی کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھارت فنڈنگ کر رہا ہے، وہاں کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھ کر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ پانی کے مسئلے پر بھی بھارت آبی دہشت گردی کر رہا ہے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ نوازشریف کھل کر بھارت کی مذمت کریں اور حکومت فوری طور پر اے پی سی بلا کر قومی قیادت کو ایک صفحے پر لائے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ جماعتیں امریکا یا بھارت کے خلاف بات کرنے سے گریز کر رہی ہیں، جو کہ قومی مفاد کے خلاف ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 77 ہزار حاجیوں کی رقم جمع ہونے کے باوجود 10 ہزار افراد کو ویزا نہ دینا افسوسناک ہے اور اس مسئلے پر حکومت فوری ایکشن لے۔
دوسری جانب، پاکستان بار کونسل نے جمعہ کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان بار کونسل شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی کرتی ہے، بار ایسوسی ایشنز کل ہڑتال سمیت قراردادیں منظور کرے گی اور بار کونسل کی ہدایت پر ملک بھر میں وکلا برداری ریلیاں نکالے گی۔
اقوام متحدہ سے بھارتی جارحیت پر نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کی شہادت پر قانونی برادری نے افسوس کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ بھارت انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حافظ نعیم کے خلاف
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔