پاکستان اور سکھ کا رشتہ ناخن اور گوشت جیسا ہے: رمیش سنگھ اروڑا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امورسردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں پاکستان اور سکھ کا رشتہ ناخن اور گوشت جیسا ہے۔ پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امورسردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سکھ برادری کو عزت و احترام دیا ہے، میں سمجھتا ہوں پاکستان اور سکھ کا رشتہ ناخن اور گوشت جیسا ہے۔ رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ پاکستان نے7 ہزار سکھ یاتریوں کو ویزا جاری کیا جس میں سے 800 پاکستان آئے اور اس پر پروپیگنڈا کیا گیا کہ پاکستان ایک محفوظ ملک نہیں لیکن وہ یہاں سے محبتیں سمیٹ کر جارہے ہیں ۔دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار اور سابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل(ر)محمد سعید نے کہا کہ بھارت نے اتنے ڈرون اپنی فرسٹریشن دور کرنے اور ہماری صلاحتیں جانچنے کیلئے بھیجے۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر دنیش کمار کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی بڑھی تو پاکستان کی ایککروڑ اقلیت بھارت کے خلاف فرنٹ لائن پر ہوگی اور پاکستان بھارت کی اقلیتوں میں صرف یہ فرق ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جو کارروائی ہوتی ہے اس میں ریاست کا ہاتھ ہے جب کہ پاکستان کی ریاست ہمیشہ اقلیتوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :