پاک فوج کے ہاتھوں تباہ رافیل طیاروں کے بھارتی پائلٹس نے کیسے جان بچائی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
پاک فوج کے ہاتھوں تباہ ہونے والے رافیل طیاروں کے بھارتی پائلٹس نے اپنی جان کس طرح بچائی؟ اس حوالے سے سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے اپنے بیان میں بتا دیا۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کو پاکستانی دفاعی نظام نے بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل طیارے مار گرائے، جن کے پائلٹس کی جان برطانوی کمپنی مارٹن بیکر کے ’’ایجیکشن سسٹم‘‘ کے ذریعے بچائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی رافیل طیارے مارٹن بیکر ایم کے 16 ایجیکشن سیٹ استعمال کرتے ہیں۔برطانوی کمپنی مارٹن بیکر ہر اس پائلٹ کا ریکارڈ رکھتی ہے جس کی جان اس کی ٹیکنالوجی کی بدولت بچی ہو اور یہ معلومات وہ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شائع کرتی ہے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ کمپنی نے حال ہی میں بچائے گئے پائلٹس کی تعداد 7,784 سے بڑھا کر 7,788 کی ہے۔ بچ جانے والے 4 نئے پائلٹس میں ایک تو امریکی نیوی کے سپر ہورنیٹ طیارے کی بحیرہ احمر میں تباہی سے متعلق ہے۔
انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے مزید کہا کہ باقی بچ جانے والے 3 پائلٹس بھارتی رافیل طیاروں کے پائلٹس تھے، جو واضح طور پر پاکستان کے ہاتھوں 6 اور 7 مئی 2025 کو مار گرائے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔