آئی پی ایل میچ کی منسوخی! چیئرلیڈر نے بھی سیکیورٹی پر سوال اٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بھارتی حکمرانوں کے ذہنوں پر سوار پاکستان کے خوف نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کا میچ منسوخ کروادیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں گزشتہ روز پنجاب کنگز اور دہلی کیپٹلز کے درمیان میچ کے دوران غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جب اعلیٰ حکام نے میچ روکوادیا۔
آئی پی ایل چیئرمین ارون دھومل نے میچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تو گراؤنڈ میں بیٹھے کھلاڑیوں، شائقین کرکٹ اور چیئر لیڈرز بھی پریشان ہوگئے۔
مزید پڑھیں: بھارت کو پاکستان کے حملے کا خوف ستانے لگا، میچز منتقل کرنے پر غور
اس دوران پنجاب کنگز نے 10.
تقریباً 23,000 تماشائیوں والا اسٹیڈیم 80% بھرا ہوا تھا، جہاں سے سب کو باہر نکالا گیا۔
مزید پڑھیں: بھارت نے آئی پی ایل کا میچ بہانہ بنا کر ختم کر دیا
اس موقع پر پنجاب کنگز کی چیئرلیڈر نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہیں شدید خوف میں مبتلا دیکھا جاسکتا ہے، انہوں نے بتایا کہ اچانک پورا اسٹیڈیم خالی کروایا گیا، سب چیخ رہے تھے! شاید میں ابھی تک صدمے میں ہوں، کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ رو کیوں نہیں رہی۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی؛ بھارتی صحافی نے "جلتی آگ پر تیل" چھڑک دیا
دوسری جانب آئی پی ایل چیئرمین ارون دھومل کا کہنا ہے کہ لیگ کے حوالے سے حکومتی ہدایت کا انتظار کررہے ہیں جس کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔
واضح رہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحیت پر پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا تھا جس کے باعث فوجی چوکیوں سمیت رافیل طیاروں تباہ ہوگئے، جس سے ہندوستانی حکمرانوں کو دنیا بھر میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایل
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔