پاک بھارت کشیدگی ،امتحانات سے متعلق اہم اعلان کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی کے باعث کیمرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اے لیول اور او لیول کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔
کیمرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے مطابق پنجاب، اسلام آباد، مظفرآباد، میرپور میں 9 مئی کو ہونے والے پرچے ملتوی کیے گئے ہیں۔ کیمرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نےامتحانات ملتوی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کیمرج اور برٹش کونسل کی معاونت سے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ہماری ترجیح طلبا اور اسٹاف کی سیکیورٹی ہے۔
پنجاب بھر میں ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 2 روز کے لیے ملتوی کردیے گئے۔وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والے پریکٹیکل بھی ملتوی کردیے گئے ہیں، ملتوی ہونے والے امتحانات اور پریکتیکل کا نیا شیڈول جلد جاری ہوگا۔
اس سے قبل وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ تمام تعلیمی ادارے بروز جمعہ اور ہفتہ بند رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے 9 اور 10 مئی کو بند رکھے جائیں گے، چھٹیوں کے احکامات تمام اسکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کے لیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ہونے والے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔