پاکستان کا بھارت کے خلاف بڑے پیمانے پر سائبر حملہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاکستان نے بڑے پیمانے پر سائبر حملہ شروع کر دیا ہے۔ جس سے بڑا بھارتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ نئی دہلی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق
ایک مربوط سائبر آپریشن کے تحت پاکستان نے جو ڈیجیٹل اسٹرائیکس کی ہیں وہ ترتیب سے یہ ہیں:۔
1۔ توانائی کے شعبے میں SCADA کے 10 نظام ڈھے پڑے ہیں۔
2۔ 1,744 ویب سرورز سے تمام ڈیٹا مستقل طور پر مٹ چکا ہے
3۔ ونڈ ٹربائنز اور صارفین کے بجلی کے پورٹلز بند ہیں
4۔ بھارتی ریلوے کے مکمل ICT انفرااسٹرکچر، دہلی گیس ڈسکام، اور کشمیر الیکٹرک ڈسکام نے تباہ شدہ ڈیٹا کو حذف کر دیا ہے۔
5۔ 120 راؤٹرز اور 1,310 آئی پی کیمرے خراب، تشکیلات تبدیل کر دی گئیں.
6۔ 507 آئی سی ٹی ڈیوائسز اور ڈیٹا بیسز کو ختم کر دیا گیا۔
7۔ 15 میل سرورز بھی ڈھبر ڈھوس ہوئے۔
8۔ 13 سرکاری پورٹلز خراب اب آف لائن ہیں۔
9۔ 150 ڈیٹا بیس چوری کر لیے گئے، حساس ڈیٹا افشاء ہو چکا۔
10۔ بی جے پی مدھیہ پردیش کی ویب سائٹ خراب ہوگئی۔
11۔ 110 کارپوریٹ ویب سائٹس غائب ہیں
12. 3 نیوز چینلز خراب اور خلل زدہ ہیں
ماہرین کے مطابق یہ خطے کی تاریخ میں سب سے زیادہ جامع سائبر حملوں میں سے ایک ہے۔ جس کے مکمل اثرات کا کی تفصیلات تاحال اکٹھی کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :