Juraat:
2026-07-24@06:07:10 GMT

پاکستان کا بھارت کے خلاف بڑے پیمانے پر سائبر حملہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT

پاکستان کا بھارت کے خلاف بڑے پیمانے پر سائبر حملہ

پاکستان نے بڑے پیمانے پر سائبر حملہ شروع کر دیا ہے۔ جس سے بڑا بھارتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ نئی دہلی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق

ایک مربوط سائبر آپریشن کے تحت پاکستان نے جو ڈیجیٹل اسٹرائیکس کی ہیں وہ ترتیب سے یہ ہیں:۔

1۔ توانائی کے شعبے میں SCADA کے 10 نظام ڈھے پڑے ہیں۔

2۔ 1,744 ویب سرورز سے تمام ڈیٹا مستقل طور پر مٹ چکا ہے

3۔ ونڈ ٹربائنز اور صارفین کے بجلی کے پورٹلز بند ہیں

4۔ بھارتی ریلوے کے مکمل ICT انفرااسٹرکچر، دہلی گیس ڈسکام، اور کشمیر الیکٹرک ڈسکام نے تباہ شدہ ڈیٹا کو حذف کر دیا ہے۔

5۔ 120 راؤٹرز اور 1,310 آئی پی کیمرے خراب، تشکیلات تبدیل کر دی گئیں.

6۔ 507 آئی سی ٹی ڈیوائسز اور ڈیٹا بیسز کو ختم کر دیا گیا۔

7۔ 15 میل سرورز بھی ڈھبر ڈھوس ہوئے۔

8۔ 13 سرکاری پورٹلز خراب اب آف لائن ہیں۔

9۔ 150 ڈیٹا بیس چوری کر لیے گئے، حساس ڈیٹا افشاء ہو چکا۔

10۔ بی جے پی مدھیہ پردیش کی ویب سائٹ خراب ہوگئی۔

11۔ 110 کارپوریٹ ویب سائٹس غائب ہیں

12. 3 نیوز چینلز خراب اور خلل زدہ ہیں

ماہرین کے مطابق یہ خطے کی تاریخ میں سب سے زیادہ جامع سائبر حملوں میں سے ایک ہے۔ جس کے مکمل اثرات کا کی تفصیلات تاحال اکٹھی کی جا رہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا