جھوٹی خبروں سے خوف پھیلایا جا رہا ہے، پرینیتی چوپڑا کی اپنی ہی میڈیا پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بالی ووڈ کی اداکارہ پرینیتی چوپڑا نے حالیہ دنوں بھارتی میڈیا کی جانب سے جھوٹی خبریں پھیلانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ہی میڈیا کو سچائی کا آئینہ دکھایا ہے۔
بھارتی میڈیا کو اب پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور جھوٹی خبریں پھیلانے پر ان کی اپنی ہی اہم شخصیات کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حال ہی میں اداکارہ پرینیتی چوپڑا نے بھی اپنے میڈیا اداروں پر تنقید کی ہے۔ اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں اداکارہ پرینیتی چوپڑا نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ نقصان دہ عمل غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پھیلانا ہے، جو عوام میں خوف اور بے یقینی پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے بھارتی عوام کو مشورہ دیا کہ وہ صرف آفیشل ذرائع پر اعتماد کریں اور بھارتی میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ ذمہ داری سے رپورٹنگ کریں۔
پرینیتی چوپڑا سے قبل اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی میڈیا کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ خوف و ہراس پھیلانے اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے باز آئے۔
سوناکشی سنہا نے مزید کہا کہ ہمارے نیوز چینلز ایک مذاق بن چکے ہیں۔ جو مبالغہ آرائی، چیخنے چلّانے والی آوازوں کے ساتھ وہ ڈرامہ دکھا رہے ہیں جس سے دماغ گھوم گیا ہے۔
اداکارہ نے سوال اُٹھایا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ میڈیا والے اپنا کام صحیح طریقے سے کریں، صرف سچ دکھائیں۔ جنگ کو سنسنی خیز بناکر عوام میں خوف پیدا نہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔