اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے معروف برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور بھارتی جارحیت کا جواب اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کے تحت صرف بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ کسی بھی بھارتی شہری آبادی پر حملہ نہیں کیا گیا۔

عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بھارت نے دانستہ طور پر پاکستان میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا جس کی پاکستان شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سول آبادی پر حملوں کا الزام بے بنیاد اور ناقابل قبول ہے، ہم اسے سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور سفارتی سطح پر بھی عالمی برادری سے مسلسل رابطے میں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ، جسے بھارت نے پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، دراصل پاکستانی سرحد سے دو سو کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع ہے اور اس واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی شفاف اور مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی مگر بھارت نے واقعہ کے صرف دس منٹ بعد ایف آئی آر درج کر کے جانبداری اور بدنیتی کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت نے امرتسر کو خود نشانہ بنایا اور اس واقعے کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوشش کی، جو مضحکہ خیز ہے۔ “ہم نے صرف اور صرف اپنے دفاع میں کارروائی کی، اور یہ کارروائی بین الاقوامی اصولوں کے تحت تھی۔”

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی افواج نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور ہر ممکن حد تک کشیدگی سے بچنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف امن اور استحکام پر مبنی ہے، لیکن اپنی خودمختاری کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ نشانہ بنایا کہ پاکستان پاکستان نے بھارت نے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت