ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین میں کامیابی کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے سوویت یونین نے دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کو شکست دی تھی، ویسے ہی روس یوکرین میں فتح حاصل کرے گا۔

یہ بیان انہوں نے ماسکو کے ریڈ اسکوائر پر منعقدہ عظیم الشان فوجی پریڈ کے دوران دیا، جس میں چین کے صدر شی جن پنگ سمیت 24 سے زائد عالمی رہنما شریک ہوئے۔

پریڈ میں 11 ہزار سے زائد فوجی شریک تھے جن میں 1,500 وہ اہلکار بھی شامل تھے جو یوکرین میں لڑ چکے ہیں۔ اس موقع پر جدید ٹینک، ڈرون اور دیگر فوجی ساز و سامان کی نمائش بھی کی گئی۔

پیوٹن نے کہا: "روس ہمیشہ فاشزم، روسوفوبیا اور سام دشمنی کے خلاف ناقابل تسخیر دیوار بن کر کھڑا رہے گا۔"

پیوٹن نے یوکرین میں روسی کارروائی کو "خصوصی فوجی آپریشن" قرار دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس مہم کو "ڈی نازیفیکیشن" کا نام دیا، جسے یوکرین اور مغربی ممالک نے مسترد کر دیا ہے۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پورے ماسکو میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا جبکہ ریڈ اسکوائر کے اطراف میں اسنائپرز تعینات تھے۔

پریڈ کے بعد پیوٹن نے شمالی کوریا کے اعلیٰ فوجی حکام سے بھی ملاقات کی، جن کے بارے میں روسی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یوکرین سے کورسک خطے کی بازیابی میں مدد فراہم کی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یوکرین میں پیوٹن نے

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم