آئندہ مالی سال کا بجٹ 2 جون کو پیش ہوگا، درآمدی گاڑیاں سستی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2025-26 کا بجٹ 2 جون 2025 کو قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبے پر درآمدی گاڑیاں سستی کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسزمیں کمی پر غور کر رہی ہےاس حوالے سے 850 سی سی تک کی چھوٹی اور 1801 سی سی تک کی بڑی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں 5 سے 30 فیصد تک کمی کی تجویزدی گئی ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان پرزور دیا ہے کہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کو بحال کیا جائے اور درآمدی شعبے پر بھاری ٹیکسز میں نرمی لائی جائے، تاکہ معیشت میں توازن پیدا ہو۔بجٹ میں ان تجاویز کی منظوری کی صورت میں گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے صارفین کو براہ راست ریلیف مل سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔