مقبوضہ کشمیر میں راجوڑی اور نوشہرہ سے پاکستان میں دہشت گردی کروانے والا بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کا تربیتی مرکز ،

کے جی ٹاپ بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ، آدم پور، ادھم پور،سورت گڑھ ایئربیسز ملیامیٹ ، بیاس میں براہموس میزائلوں کا ذخیرہ زمین بوس

جے ایف 17تھنڈرز کے ہائپرسونک میزائلوں نے ڈیڑھ ارب ڈالر کا بھارتی دفاعی نظام ایس 400 کواڑادیا

پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص (آہنی دیوار) شروع کرتے ہوئے دشمن کا غرور خاک میں ملادیا۔ بھارت میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور ایئربیس، کئی ایئرفیلڈز، براہموس اسٹوریج سائٹ اور ایس 400 میزائل دفاعی نظام سمیت متعدد اہداف کو تباہ کردیا ہے ۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کے عوام اور مساجد کو جن ایئربیس سے ٹارگٹ کیا گیا تھا، ان اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق فجر کے وقت دشمن کے خلاف آپریشن ‘بنیان مرصوص’ کا آغاز کیا گیا اور بھارت پر فتح ون میزائل فائر کیا گیا ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق فتح میزائل کی رینج 120 کلومیٹر ہے ، میزائل میں جدید نیوی گیشن سسٹم اور اعلیٰ درستی شامل ہے ۔پاکستان کی مسلح افواج کے آپریشن بنیان مرصوص میں تباہ کیے گئے بھارتی اہداف کی تفصیلات کے مطابق بھارت کے پاور گرڈ کے 70 فیصد حصے کو سائبر حملے میں ناکارہ بنایا گیا،بی جے پی کی آفیشل ویب سائٹ سمیت بیشتر بھارتی ویب سائٹس ہیک کرلی گئیں ،آدم پور میں پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر کے ہائپر سونک میزائلوں نے بھارت کا ایسـ400 دفاعی نظام تباہ کر دیا،مقبوضہ کشمیر میں راجوڑی اور نوشہرہ سے پاکستان میں دہشت گردی کروانے والا بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کا تربیتی مرکز تباہ کردیا گیا،کے جی ٹاپ بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ کر دیے گئے ، اڑی فیلڈ سپلائی ڈپو تباہ کر دیے گئے ۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آدم پور، اودھم پور، پٹھانکوٹ، سورتھ گڑھ، سرسہ، بھٹنڈا، ہلوارا ایئر فیلڈز اور اکھنور ایوی ایشن بیس تباہ،دہرنگیاری میں آرٹلری گن پوزیشن تباہ،بیاس میں براہموس میزائلوں کا ذخیرہ بھی کر دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول پر ربتانوالی پوسٹ، ڈنہ پوسٹ، پتھیلی ٹاپ کی بھارتی پوسٹیں، خواجہ بھیک کمپلیکس اور رنگ کنٹوئر بالمقابل سنکھ بھی مکمل تباہ کر دی گئیں ۔پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں بھارتی فوج کی تنصیبات پر حملے کیے ، پاکستان کے فتح میزائلوں کے حملوں کے بعد بھارت کی ادھم پور ایئربیس تباہی کے مناظر پیش کرنے لگی۔پاکستانی میزائلوں سے بیاس کے علاقے میں براہموس اسٹوریج سائٹ تباہ کردی گئی جبکہ پاک فوج نے پٹھان کوٹ میں ایئرفیلڈ کو بھی تباہ کردیا، راجوڑی میں پاکستان میں دہشت گردی کروانے والا بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کا تربیتی مرکز بھی تباہ کر دیا۔بھارت کی سرسہ ایئرفیلڈکی تباہی کی کنفرمیشن انڈین میڈیا نے خود کر دی۔پاک فوج نے نئی دہلی میں بھی کچھ اہداف کو نشانہ بنایا ہے ، بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے جی ٹاپ اور اڑی میں سپلائی ڈپو بھی تباہ کردیا گیا ہے ۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بھارتی جنگی جنون کے خلاف ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ذرائع کے مطابق راجوڑی میں پاکستان میں دہشت گردی کروانیوالا بھارتی ملٹری انٹیلی جینس کا تربیتی مرکز بھی تباہ کر دیا گیا۔سیکیورٹی حکام نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ بھارت کو اس کے جارحانہ عزائم کا بھرپور جواب دیا جائے ۔پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں شروع کے گئے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران آدم پور میں بھارت کا ایئرڈیفنس سسٹم ایس400تباہ کردیا جبکہ پاک فضائیہ نے کارروائی کے دوران بھارتی فوج کا سیٹلائٹ جام کردیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی دفاعی نظام جے ایف 17 تھنڈرز کے ہائپرسونک میزائلوں نے اڑایا، بھارت کے دفاعی نظام ایس 400 کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر ہے ۔دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے بھارتی فوج کی سیٹلائٹ جام کردی، پاک فضائیہ کی کارروائی کے بعد بھارتی فوجی سیٹلائٹ نے کام چھوڑ دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا