کوئٹہ میں انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ، محمد وسیم نے میدان مار لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
کوئٹہ میں سجنے والی پہلی انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ میں پاکستانی باکسر محمد وسیم نے جیت کا سہرا اپنے سر سجا لیا۔کوئٹہ کے پولو کلب میں جنوبی ایشیاء میں پہلی بار ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کے تحت انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ کا شاندار انعقاد کیا گیا۔عالمی شہرت یافتہ مکا بازوں نے ٹائٹل فائٹ سمیت مختلف کیٹگریز کے مقابلوں میں حصہ لیا جس میں باکسنگ کے 4 ٹائٹل فائٹ سمیت مجموعی طور پر 8 مقابلے ہوئے۔برطانیہ کے جیمی گیلی، سہیل اقبال، الیگز ڈیلمغانی، مراکش کے طارق زائنا، میکسیکو کے جیسس سراچو نے اپنے اپنے مقابلے جیت لیے، پاکستانی باکسر فاطمہ ہزارہ اور ملائکہ نے ہم وطن مکا بازوں کو شکست دی۔پاکستانی باکسر محمد وسیم نے وینزویلا کے وسیٹون اورونو کو نویں راؤنڈ میں ناک آؤٹ کرکے ڈبلیو بی اے ورلڈ گولڈ بینٹم ویٹ ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔