پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کیلئے حملہ کرنے والا شکست خوردہ اپنے زخم صاف کررہا ہے، یوسف رضا گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
چیئرمین سینٹ نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر اپنے بیان میں کہا کہ فواج پاکستان نے غیرمعمولی بہادری، جرات اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا، پاک فضائیہ کے جوانوں کی غیرمعمولی صلاحیتوں نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کردیا۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کیا، سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے پوری دنیا کو پیغام دے دیا ہے کہ ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے، افواج پاکستان نے غیرمعمولی بہادری، جرات اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا، پاک فضائیہ کے جوانوں کی غیرمعمولی صلاحیتوں نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کردیا، پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کیلئے حملہ کرنے والا شکست خوردہ بھارت آج اپنے زخم صاف کررہا ہے، بغیر ثبوت کے محض الزام تراشی کی بنیاد پر حملہ کرنے والے بھارت کو پاکستان نے پوری دنیا میں سفارتی اعتبار سے تنہا کردیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت عالمی میڈیا کے اسٹیج پر وطن کا مقدمہ لڑنے والے تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنگ کے موقع پر پاکستان کے عوام کا تمام سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک پیج پر ہونا ہمارے شعور کا اظہار ہے، وطن کی بقا کے خاطر ہر پاکستانی ایک ہے اور متحد ہے اور ایسی قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔