اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) جنگ بندی کے بعد پاک بھارت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کی بات چیت تاخیر کا شکار ہے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق قبل ازیں بھارتی میڈیا نے پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے درمیان بات چیت شروع ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی کی کوششوں کیلئے پاکستان کے ڈی جی ایم او میجر جنرل کاشف عبداللہ اور بھارتی ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائے کے درمیان بات چیت ہوگی۔
یاد رہے کہ قبل ازیں 10 مئی کی سہ پہر بھی ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطہ ہوا تھا، جس میں فوری سیز فائر پر اتفاق ہوا تھا، ٹیلیفونک رابطے میں زمینی، فضائی اور بحری سمیت ہر طرح کی فائرنگ اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، دونوں ممالک نے مسائل کے حل کیلئے تیسرے ملک کی ثالثی میں بات چیت کیلئے آمادگی کا اظہار کیا۔
امریکی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے حامی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امن کا راستہ منتخب کرنے پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی دانشمندی کو سراہتے ہیں، امریکہ تعمیری بات چیت کو فروغ دینے کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔

جنگ کیخلاف اور امن کے حق میں بیان دینے پر ہندو انتہا پسندوں کی نامور مسلم صحافی کو دھمکیاں اور فحش پیغامات

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ڈی جی ایم اوز پاک بھارت کے درمیان بات چیت

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم