پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پاکستان کی جانب سے آپریشن ’بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘ کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 6 اور 10 مئی کی کارروائیاں آپریشن بنیان مرصوص کا حصہ تھیں، پاکستان نے بھارت کے ساتھ 22 اپریل سے10مئی تک کے معرکے کو ’’معرکۂ حق‘‘ کا نام دے دیا۔
آئی ایس پی آر نے معرکہ حق 22 اپریل سے 10 مئی 2025 کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ معرکۂ حق، بھارتی فوج کے بزدلانہ حملوں کے ردعمل میں کیا گیا، بھارت کی جانب سے حملے 6 اور 7 مئی 2025 کی شب شروع ہوئے تھے۔
امریکا کی ثالثی اور دوست ملکوں کی مدد سے ہونے والی جنگ بندی میں طے پایا ہے کہ دونوں ملک کسی تیسرے ملک میں مذاکرات کریں گے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ حملوں کے نتیجے میں معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی جانیں ضائع ہوئیں، پاکستان نے بھارتی فوجی جارحیت اور ہمارے شہریوں کے بے رحمانہ قتل کے خلاف انصاف اور بدلہ لینے کا عزم کیا تھا، ہم اللّٰہ کے حضور انتہائی عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہیں، اللّٰہ نے ہمیں ہمارے عزم کو میدانِ جنگ میں فیصلہ کن اقدامات میں بدلنے کی توفیق عطا فرمائی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج نے 26 بھارتی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، براہموس میزائل ذخائر اور ایس 400 سسٹمز کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا۔
پاکستان کا جواب تینوں مسلح افواج کے باہم مربوط تعاون کی ایک مثالی مثال تھا، فضا، خشکی، سمندر، سائبر کے میدانوں میں یہ ہم آہنگی کارروائی کی کامیابی کا باعث بنی، ہم آہنگی انتہائی درست نشانے، بھرپور تباہ کن قوت، بجلی کی سی رفتار سے کارروائی کو ممکن بنانے کا باعث بنی، تمام پلیٹ فارمز نے باہمی ربط و تعاون سے کام کیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دور ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے والے فتح سیریز میزائل ون اور ٹو کا استعمال کیا، پاک فضائیہ کے درست نشانہ لگانے والے ہتھیار کا استعمال کیا گیا، طویل فاصلے تک مار کرنے والے "لوئٹرنگ کِلر مونیشنز" اور توپوں کا استعمال کیا گیا، مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کے اندرونی علاقوں میں26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، وہ ادارے جو پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینے کے ذمہ دار تھے انھیں نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 10 مئی کی کارروائیاں آپریشن بنیان مرصوص کا حصہ تھیں، نشانہ بنائے گئے اہداف میں فضائیہ اور ایوی ایشن کے اڈے شامل تھے، سورت گڑھ، سرسہ، بھُج، نالیا، آدم پور، بھٹنڈہ، برنالہ، حلوارہ کو نقصان پہنچایا گیا، اونتی پورہ، سرینگر، جموں، ادھم پور، مامون، امبالہ اور پٹھان کوٹ کو شدید نقصان پہنچایا گیا، بیاس اورنگروٹہ میں موجود براہموس میزائل ذخیرہ گاہیں بھی تباہ کر دی گئیں، ان اڈوں سے پاکستان پر میزائل داغے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کیا گیا
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔